حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 436
حقائق الفرقان ۴۳۶ سُوْرَةُ الْبَقَرَة کر نیکی کے عوض انعامات اور بدیوں پر سزا دینے والا اور قادر مقتدر ہستی ہے۔وہ ربّ ہے، رحمن ہے، رحیم ہے، مالک یوم الدین ہے۔غرض انسان اس طرح سے جب حقیقی طور سے اللہ کی صفات سے آگاہی حاصل کر کے ان پر کامل ایمان لاتا ہے تو پھر ہر بدی سے بچنے کے واسطے اس کو جناب النبی سے ایک راہ عطا کی جاتی ہے جس سے بدیوں سے بچ جاتا ہے۔فطرتِ انسانی میں یہ امر روز ازل سے ودیعت کر دیا گیا ہے کہ انسان جس چیز کو اپنے واسطے یقیناً مضر جانتا ہے اس کے نزدیک تک نہیں جاتا۔بھلا کبھی کسی نے کسی سلیم الفطرت انسان کو کبھی جان بوجھ کر آگ میں ہاتھ ڈالتے یا آگ کے انگارے کھاتے ہوئے دیکھا ہے یا کوئی شخص اس حالت میں کہ اس کو اس امر کا وہم ہی ہو کہ اس کے کھانے میں زہر کی آمیزش ہے اس کھانے کو کھاتے دیکھا ہے؟ یا کبھی کسی نے ایک کالے سانپ کو حالانکہ وہ جانتا ہو کہ اس کے دانت نہیں توڑے گئے اور اس میں زہر اور کاٹنے کی طاقت موجود ہے کسی کو ہاتھ میں بے خوف پکڑنے کی جرات کرتے دیکھا ہے؟ یا درکھو کہ اس کا جواب نفی میں ہی دیا جائے گا کیونکہ یہ امر فطرت انسانی میں مرکوز ہے کہ جس چیز کو یہ ضرر رساں یقین کرتا ہے اس کے نزدیک نہیں جاتا اور حتی الوسع اس سے بچتا رہتا ہے۔تو پھر غور کا مقام ہے کہ جب انسان خدا پر کامل یقین رکھتا ہو اور اس کے صفات سے خوب آگاہ ہو اور یہ بھی یقین رکھتا ہو کہ خدا نیکی سے خوش اور بدی سے ناراض ہوتا ہے اور سخت سے سخت سزا دینے پر قادر ہے اور سزا دیتا ہے اور یہ کہ گناہ حقیقت میں ایک زہر ہے اور خدا کی نافرمانی ایک بھسم کر دینے والی آگ ہے اور اس کو آگ کے جلانے پر اور زہر کے ہلاک کر دینے پر اور سانپ کے کاٹنے سے مرجانے پر جیسا ایمان ہے اگر ایسا ہی ایمان خدا کی نافرمائی اور گناہ کرنے پر خطرناک عذاب اور ہلاکت و عذاب کا یقین ہو تو کیونکر گناہ سرزد ہو سکتا ہے اور کیونکر خدا کی نافرمانی کے انگارے کھائے جاسکتے ہیں۔دیکھو انسان اپنے مربی ، دوست، یار، آشنا اور کسی طاقتور با اختیار حاکم کے سامنے کسی بدی اور گناہ کا ارتکاب نہیں کر سکتا اور گناہ کرتا ہے تو چھپ کر کرتا ہے کسی کے سامنے نہیں کرتا۔تو پھر اگر اس کو خدا پر اتنا ایمان ہو کہ وہ غیب در غیب اور پوشیدہ در پوشیدہ انسانی اندرونہ اور وسوسوں کو بھی جانتا ہے اور یہ کہ کوئی بدی خواہ کسی