حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 435
حقائق الفرقان ۴۳۵ سُوْرَةُ الْبَقَرَة حسن اعتقاد وحسن اقوال وحسن اعمال اور فقر، بیماری، مقدمات و مشکلات میں صبر واستقلال اس مجموعہ کو قرآن نے تقوی کہا ہے۔دیکھو رکوع کیس البر (البقرة: ۱۷۸) اور اس کا ایک درجہ سورہ بقرہ کے ابتداء میں ہے جیسے فرمایا ہے کہ الغیب پر ایمان لاوے۔پرارتھنا اور دعا اور بقدر ہمت و طاقت دوسروں کی ہمدردی کے لئے کوشش کرنے والا متقی ہے۔(نورالدین بجواب ترک اسلام۔کمپیوٹرائزڈ ایڈ یشن صفحہ ۱۱) وَ الصُّبِرِينَ فِي الْبَأْسَاءِ وَالصَّرَاءِ وَحِيْنَ الْبَأْسِ أُولَبِكَ الَّذِينَ صَدَقُوا وَ أُولَبِكَ هُمُ الْمُتَّقُونَ (البقرۃ:۱۷۸) دکھوں، بیماریوں اور تحطوں اور جنگوں میں صبر کرنے والے۔وہی صادق ہیں اور وہی متقی ہیں۔(نورالدین بجواب ترک اسلام کمپیوٹرائز ڈایڈ یشن - صفحہ ۲۴) پسندیدہ باتیں یہی تو نہیں کہ مشرق اور مغرب کی طرف منہ کر کے نماز پڑھ لی۔نیکی اور عمدہ بات تو اُس شخص کی ہے جس نے دل سے مانا زبان سے اقرار کیا اور اپنے کاموں سے کر دکھا یا کہ وہ اللہ کو مانتا۔جزا و سزا کے دن پر یقین رکھتا ہے۔ملائکہ اور اللہ تعالیٰ کی پاک کتاب اور سچے نبیوں پر اس کے اعتقاد لایا اور باایں کہ اسے خود حاجت وضرورت ہے اور زندگی کا امیدوار ہے مگر اپنے مال سے رشتہ داروں کی خبر گیری کرتا ہے اور یتیموں ، مسکینوں اور مسافروں، سائل کی پرورش، غلاموں کے آزاد کرنے میں مال کو خرچ کرے، عبادت و نمازوں کو ٹھیک درست رکھے۔اپنے مال سے مقرری حصہ جسے زکوۃ کہتے ہیں ادا کرتار ہے اور نیکی تو ان کی ہے جو تمام ان بھلے معاہدوں اور اقراروں کا ایفا کریں جو انہوں نے خدا تعالیٰ سے یا اس کے کسی بندہ سے باندھے۔باتوں میں صداقت کو کام میں لاویں۔امانت میں خیانت نہ کریں۔افلاس میں ، مرض میں ، جنگ کی شدت میں تنگی میں ، تکلیف میں وفادار، ثابت قدم مستقل مزاج رہیں۔تصدیق براہین احمدیہ۔کمپیوٹرائز ڈایڈ یشن صفحہ ۲۱۸) تقوی کی جڑ اور بنیاد سچے عقائد ہیں اور ان کی جڑ کی بھی جڑ کیا ہے؟ آمَنَ بِاللہ اللہ تعالیٰ پر ایمان لانا۔کہ وہ ہر بدی سے منزہ اور گل صفات کا ملہ کا مالک اور حقیقہ وہی معبود ، مقصود اور مطلوب ہے۔اس کے اسماء، افعال اور صفات پر کامل ایمان لانا اور کہ وہ نیکی سے خوش اور بدی سے ناراض ہو