حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 431
حقائق الفرقان ۴۳۱ سُورَة البَقَرَة شِقَاقٍ بَعِيد۔یعنی ہمارے اور ان کے درمیان جو تعلقات تھے اور جو وصل تھا اس میں شق آ گیا شق بھی پرلے درجہ کا۔پنجابی پاژن پاڑنا اس مفہوم کو خوب ادا کرتا ہے۔(ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۲۳ مؤرخہ یکم اپریل ۱۹۰۹ء صفحه ۲۹) ۱۷۸۔لَيْسَ الْبِرَّ أَنْ تُوَلُّوا وُجُوهَكُمْ قِبَلَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ وَلَكِنَّ الْبِرَّ مَنْ آمَنَ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَالْمَلَكَةِ وَالْكِتَبِ وَالنَّبِيِّنَ وَأَتَى الْمَالَ عَلَى حُبّهِ ذَوِى الْقُرْبى وَالْيَتَنى وَالْمَسْكِينَ وَابْنَ السَّبِيلِ وَالسَّابِلِينَ وَ فِي الرِّقَابِ وَأَقَامَ الصَّلوةَ وَأَتَى الزَّكوةَ وَالْمُوفُونَ بِعَهْدِهِمْ إِذَا عَهَدُوا ۚ وَ الصُّبِرِينَ فِي الْبَأْسَاءِ وَالضَّرَّاءِ وَحِيْنَ الْبَأْسِ أُولَبِكَ الَّذِينَ صَدَقُوا وَ أوليك هم المتقون ج ترجمہ۔نیکی یہی نہیں کہ تم اپنے منہ مشرق یا مغرب کی طرف کرلیا کرو بلکہ نیکی تو اس کی ہے جس نے (سچے دل سے اللہ کو مانا اور آخرت کے دن کو اور فرشتوں کو اور (اللہ کی) کتابوں کو اور نبیوں کو۔اور پیارا مال دیا اللہ کی محبت میں رشتہ داروں (یا اللہ کے مقربوں کو ) اور یتیموں اور بے اسبابوں اور مسافروں اور مانگنے والوں اور غلاموں اور پھندوں میں پھنسے ہوؤں کے چھڑانے میں، اور نماز کو ٹھیک درست رکھا اور زکوۃ دیتا رہا اور نیک لوگ) جب کسی سے کچھ اقرار کر لیتے ہیں تو پورا کرتے ہیں تنگی اور تکلیف اور لڑائی کے وقت صابر و مضبوط رہتے ہیں یہی لوگ سچے ہیں ( دین اسلام میں ) اور بس یہی متقی ہیں۔تفسیر۔نیکی یہی نہیں کہ منہ کروا پنے مشرق کی طرف یا مغرب کی۔ولیکن نیکی وہ ہے جو کوئی ایمان لاوے اللہ پر اور پچھلے دن پر اور فرشتوں پر اور کتابوں پر اور نبیوں پر اور دیوے مال اس کی محبت پر ناطے والوں کو اور یتیموں کو اور محتاجوں کو اور راہ کے مسافر کو اور مانگنے والوں کو اور گرد نہیں چھڑانے میں اور کھڑی رکھے نماز اور دیا کرے زکوۃ اور پورا کرنے والے اپنے اقرار کو جب پورا کریں اور ٹھہرنے والے سختی میں اور تکلیف میں اور وقت لڑائی کے۔وہی لوگ ہیں جو سچے ہوئے اور وہی