حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 34 of 680

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 34

حقائق الفرقان ۳۴ سُوْرَةُ الْفَاتِحَة کرے اور سچے علوم سے بے خبر ہو۔پس انسان کو چاہئے کہ یہ دعا کرے۔اپنا منعم علیہ بنا لے مگران انعام کئے گیوں سے کہ جن پر تیرا نہ غضب کیا گیا ہو، نہ وہ بھولے بھٹکے۔(البدر جلدے نمبر ۳ مورخه ۲۳ /جنوری ۱۹۰۸ء صفحه ۱۰) اس اُمت میں اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ ، مَغْضُوب اور ضَال تینوں قسم کے لوگ موجود ہیں پس وہ مسیح موعود علیہ السلام بھی موجود ہے جس نے ہم میں نازل ہونا تھا وہ مہدی معہود اور اس وقت کا امام بھی ہے اور انہی میں موجود ہے۔وہ اختلافوں میں حگم۔ہم نے اس کی آیات بینات کو دیکھا اور ہم گواہی دیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے ڈر کر، جزا سزا،حشر اجساد، جنت و نار، اپنی بے ثبات زندگی کو نصب العین رکھ کر اس کو امام مان لیا ہے۔' ( نورالدین بجواب ترک اسلام۔کمپیوٹرائز ڈایڈ یشن صفحہ ۶۹) ہم نے تین دعائیں الحمد میں کی ہیں۔منعم علیہ بنیں۔مغضوب علیہم اور ضالّ نہ بنیں۔ہرسہ خدا نے قبول کی ہیں۔انعام ان پر ہو اجو متقی ہیں۔مغضوب بے ایمان ،منکر ہیں جن کو وعظ کرنا نہ کرنا برا بر ہو۔ضالین منافق لوگ ہیں۔ہر سہ کا ذکر الحمد میں ہے پھر ترتیب وار ہر سہ کا ذکر سورہ بقرہ کے ابتدا میں ہے۔یہ قرآن شریف کی ترتیب کا ایک نمونہ ہے۔البدر جلد ۱۱ نمبر ۳۲ مورخه ۲۳ مئی ۱۹۱۲ء صفحه ۳) الْحَمْدُ لِلهِ رَبِّ الْعَلَمِینَ۔سارے جہانوں کا رب۔عبادت کے لائق وہی ہے اسی کے لئے سب محامد ہیں۔اس میں حکم ہے کہ عبادت اسی کی کی جائے جو سارے جہانوں کا رب ہے۔کوتاہ نظر لوگ اپنی نادانی سے کسی ادنی چیز میں اپنے زعم کے مطابق حسن یا احسان خیال کر کے اُسی کی پرستش کرنے لگتے ہیں۔اللہ تعالیٰ اُن کے عقیدہ باطل کی تردید فرماتا ہے کہ وہ اشیاء رب العالمین نہیں ہیں سب جہانوں کی ربوبیت نہیں کر سکتے ہم خود دیکھ رہے ہو۔پھر وہ عبادت و اعلیٰ محامد کے لائق کیونکر ہو سکتے ہیں۔ماں کے پیٹ سے لے کر بچپن ، جوانی، بڑھاپا، موت تک ہر حالت میں اور ہر جگہ انسان اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کا محتاج ہے بلکہ باپ کے جسم میں بلکہ عنصری حالت میں۔پھر