حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 429 of 680

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 429

حقائق الفرقان ۴۲۹ سُوْرَةُ الْبَقَرَة لَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْءٍ مِنَ الْخَوْفِ وَالْجُوعِ (البقرة : ۱۵۶) یہ سب چیزیں ایسی ہیں جن کی ضرورت جہاد میں ہے۔پھر جہاد میں ضروری ہے کہ اللہ پر پورا ایمان ہو اور یہ موقوف ہے تو حید پر اور توحید کامل نہیں ہوتی جب تک شرک سے نفرت نہ ہو اسی واسطے وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ يَتَّخِذُ ( البقرة: ١٢٦) میں شرک سے منع فرمایا اور بتلایا کہ مومن کو چاہیے اکل حلال سے غازی بنے۔پھر اسی پر بس نہیں کہ حلال کھانے کا عادی بنے بلکہ ترک حرام بھی کرے۔پھر اس ترک حرام میں سے ایک اعلیٰ حرام خوری کا ذکر کیا ہے۔کل کے درس میں اصول محرمات کا ذکر تھا استنباطی طاقت جب پیدا ہوتی ہے جب بطور مثال کچھ بیان ہو چنانچہ یہاں ایک مثال اس آیت میں ذکر کر دی گئی ہے۔مَا انْزَلَ اللهُ مِنَ الْكِتب - جو کچھ اتارا اللہ نے ایک کامل مجموعہ میں۔ثمنا قليلاً - مول بہت تھوڑا۔یعنی دنیا۔جیسے فرما یا قُلْ مَتَاعُ الدُّنْيَا قَلِيلُ (النساء: ۷۸) مَا يَأْكُلُونَ فِي بُطُونِهِمْ إِلَّا النَّارَ - اِس طرز عمل کا نتیجہ سوا اس کے نہیں کہ جل بھن کر اندر ہی اندر کباب ہوتے رہیں۔لا يُكَلِّمُهُمُ اللهُ يَوْمَ الْقِيِّمَةِ - لوگ اپنا مال ، اپنی دولت، اپنی عزت، اپنی آبرو کسی بڑے کی بات سننے کے لئے خرچ کر دیتے ہیں۔پس اللہ کی ذات سے جو تمام حسینوں ، عالموں اور بادشاہوں کا خالق ہے کلام کرنے کو کیوں دل نہ تڑپتا ہوگا ؟ سوخدا تعالیٰ ایسے لوگوں کو دوسری سزا یہ دے گا کہ ان سے کلام نہ کرے گا۔اندھا آدمی جود یکھنے کے عجائبات سے واقف نہیں ہوتا وہ اگر دید کی حرص نہ کرے تو تعجب نہیں۔اسی طرح جسے کلام الہی کی عذوبت سے آگا ہی نہیں وہ اگر اسے عذاب نہ سمجھے تو نہ سمجھے یہ ہے بڑا عذاب۔پھر ایک اور دکھ ہو گا وہ یہ کہ مرشحی نہ کرے گا بلکہ ان کے لئے عذاب ہے۔لے اور البتہ ہم تمہارا امتحان لیں گے انعام دینے کو کچھ خوف سے اور کچھ بھوکا رکھ کر۔ے اور آدمیوں میں سے بعض ایسے بھی ہیں جو اللہ کے جیسا اوروں کو بھی ٹھہراتے ہیں۔( ناشر )