حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 428
حقائق الفرقان غَيْرَ بَاغ ۔ دل سے چاہنے والا نہ ہو۔ ۴۲۸ سُورَةُ الْبَقَرَة وَلَا عَادِ ۔ اور پھر اضطرار کی ضرورت سے حد سے بڑھنے والا نہ ہو۔ ( ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۲۳ مورخہ یکم اپریل ۱۹۰۹ ء صفحه ۲۸) حَرَّمَ عَلَيْكُم ۔ سب چیزیں جو قوای فطری یادین یا اخلاق کی مہلک ہوں حرام ہیں۔ تشحید الا ذبان جلد ۸ نمبر ۹ ستمبر ۱۹۱۳ ء صفحه ۴۴۱) ١٧٥ - إِنَّ الَّذِينَ يَكْتُمُونَ مَا اَنْزَلَ اللهُ مِنَ الْكِتٰبِ وَ يَشْتَرُونَ بِهِ ثَمَنًا قَلِيلًا أُولَبِكَ مَا يَأْكُلُونَ فِي بُطُونِهِمْ إِلَّا النَّارَ وَلَا يُكَلِّمُهُمُ اللَّهُ يَوْمَ دو الْقِيمَةِ وَلَا يُزَكِّيهِمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ - ترجمہ ۔ جو لوگ چھپاتے ہیں جو اتارا اللہ نے کتاب میں اور لیتے ہیں اس کے بدلہ تھوڑا سا مال یہ لوگ اپنے پیٹوں میں انگارے ہی بھرتے ہیں اور کچھ نہیں کھاتے ہیں اور بات بھی نہیں کرے گا ان سے اللہ قیامت کے دن اور نہ ان کو پاک کرے گا اور ان کے لئے ٹیس دینے والا عذاب ہے۔ تفسیر - إِنَّ الَّذِينَ يَكْتُمُونَ مَا أَنْزَلَ اللهُ - اِس سورہ شریف میں اللہ تعالی نے قسم قسم کی کامیابیوں اور فتح مندیوں کے اصول بتلائے ہیں ۔ میرے اپنے اعتقاد کے مطابق یہ تمام سورۃ جہاد کی ترغیب کے لئے ہے اور اس میں جا بجا مجاہدین کو بتایا ہے کہ وہ کس طرح مظفر و منصور ہو سکتے ہیں ۔ پارہ اوّل میں مُفْلِحُونَ کے معنے مظفر و منصور کے ہیں۔ فتح کا تاج بھلا جہاد کے سواکسی کے سر پر رکھا جا سکتا ہے؟ پھر اس کے بالمقابل إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا کا ذکر ہے جس کے بعد عذاب عظیم آیا ہے۔ گویا دو گروہ بتا دیئے ہیں جن میں مقابلہ ہو گا ۔ اللہ تعالیٰ چاہے گا تو میں کسی دوسرے مقام پر اس کی تشریح کروں گا یہاں صرف اتنا بتا دیتا ہوں کہ ایک جگہ فرمایا اِسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلوة (البقرة:۱۵۴) پھر صاف بتلا دیا ۔ وَلَا تَقُولُوا لِمَنْ يُقْتَلُ فِي سَبِيلِ اللهِ أَمْوَاتٌ (البقرۃ: ۱۵۵) پھر فرمایا۔ و اے نیکیوں پر ہمیشگی پریسی اور بدیوں سے ۔ بچنے اور دعائیں کرنے پر مضبوط رہو۔ بر مضبوط رہو۔ ہے اور نہ کہو ان لوگوں کو مردے جو اللہ کی راہ میں مارے جائیں۔ (ناشر)