حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 427
حقائق الفرقان ۴۲۷ سُوْرَةُ الْبَقَرَة ۱۷۔يَاَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُلُوا مِنْ طَيِّبَتِ مَا رَزَقْنَكُمْ وَاشْكُرُوا لِلَّهِ إِنْ کرتے ہو۔كُنْتُمْ إِيَّاهُ تَعْبُدُونَ - ترجمہ۔اے ایمان والو! کھاؤ ہمارے رزق سے ستھرے اور اللہ کا شکر کرو اگر تم اس کی عبادت فصل الخطاب المقد مہ اہل الکتاب حصہ اوّل صفحہ ۵۸ حاشیه ) ۱۷۴ - إِنَّمَا حَرَّمَ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةَ وَالدَّمَ وَ لَحْمَ الْخِنْزِيرِ وَمَا أُهِلَّ بِهِ لِغَيْرِ اللهِ فَمَنِ اضْطَرَ غَيْرَ بَاغِ وَلَا عَادٍ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ إِنَّ اللهَ غَفُورٌ ج ترجمہ۔پس اس نے تو حرام کیا ہے تم پر خود مردہ اور خون اور سور کا گوشت اور وہ چیز جو اللہ کے سواکسی اور کے نام سے پکاری جائے پھر جو مضطر اور نا چار ہو۔نافرمانی کرنے والا اور حد سے بڑھ جانے والا نہ ہو۔تو اس پر کچھ گناہ نہیں۔بے شک اللہ ڈھانپنے والا سچی محنت کا بدلہ دینے والا ہے۔تفسیر - حَرَّمَ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةُ - مردار کے اندر ایک خطرناک زہر ہوتا ہے جس کا نتیجہ انسان کے لئے اچھا نہیں۔چنانچہ جتنی مردار خوار قومیں ہیں ان کی زبان ، جلد عقل موٹی اور بھڑی ہوتی ہے۔اوروں کو نہیں تو چوہڑوں کو دیکھ لیں شریف گھروں سے کھاتے ہیں، انہی کے ساتھ زیادہ تعلق رکھتے ہیں مگر پھر بھی مردار خواری کا اثر ان کی شکلوں اور عقلوں سے ظاہر ہے۔واللہ۔ہم نے ایسی قومیں دیکھی ہیں جو جانور کا خون پی جاتی ہیں یا اسے بھون کر کھا لیتی ہیں۔خون میں اس قسم کی زہریں ہوتی ہیں جن سے اعصاب کو شیخ، فالج ، استرخاء ہوجاتا ہے۔وَلَحْمَ الْخِنْزِیر۔اس جانور کا گوشت کھانے سے قوت شہوت وغضب میں بہت ترقی ہوتی ہے اور یہی دو قو تیں ہیں جو تمام قسم کی بداخلاقیوں کی جڑ ہیں۔یہودی تو اس کا نام تک نہیں لیتے۔بعض مسلمانوں میں بھی یہ بات ہے۔وہ خنزیر یا سو رنہیں کہتے۔وَمَا أُهِلَّ بِهِ لِغَيْرِ الله۔وہ جانور جو نامزد کیا گیا ہو اللہ کے غیر کے لئے۔ایسے جانور تقریب و حاجت روائی کے لئے ذبح کئے جاتے ہیں۔