حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 426 of 680

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 426

حقائق الفرقان ۴۲۶ سُوْرَةُ الْبَقَرَة سامابہ الامتیاز ان میں بتائیں۔میں نے کہا بس یہ دیکھ لو کہ اکا بر کس طرف گئے ہیں اور غریب کس طرف آئے ہیں۔اوّل اوّل خدا کے رسیدوں کے ساتھ انہی کو تعلق ہوتا ہے جو بڑے مالدار نہ ہوں۔ہارون رشید مکہ میں گیا تو ابن المبارک کو بھی ساتھ لیتا گیا جو اہلِ حدیث و اہل باطن میں عظیم الشان عالم تھا۔جہاں جہاں ملاقات کو جاتا اس شخص کے مذاق کے مطابق اپنے ہمراہ کسی معتمد کو لے جاتا۔فضیل عیاض سے ملاقات چاہی تو ابن المبارک سے استدعا کی۔یہ گئے۔باہر سے دروازہ کھٹکھٹایا۔اندر سے آواز آئی۔کون ہے ؟ جواب دیا۔ابنِ مبارک۔کہا۔مَرْحَبًا يَا أَخِي وَ صَاحِبِی۔پوچھا۔میرے ساتھ بھی ایک شخص قریشی ہے۔کہا مجھے کسی قریش کی ملاقات پسند نہیں۔کہا میرا تم پر حق ہے۔وہ بولا۔ہاں۔کہا پھر اسے مجھ پر ایک حق ہے۔کہا۔اچھا۔ہارون رشید خاموش بیٹھ گیا۔فضیل عیاض اسے دیکھ کر کہنے لگے۔یہ جوان ہے تو خوبصورت میں دعا کرتا ہوں کہ جہنم سے بچ جائے۔پھر جہنم میں پڑنے کی وجوہات بتلائیں جس پر ہارون رشید دھاڑیں مار مار کر رونے لگا۔وہ کونسی قوت تھی جو ایک بادشاہ رُوئے زمین کو یوں ڈانٹ بتانے کی جرات دے رہی تھی۔صرف حلال خوری۔ایک دفعہ ہارون رشید پھر گیا اور ایک ہزار دینار پیش کیا۔فضیل نے بہت ناراضی کا اظہار کیا اور کہا اسے میرے سامنے سے اُٹھا لو یہ بیت المال کا ہے اور تمہیں اس سے بے تحقیق دینے کا کوئی حق نہیں۔اس کے بعد ایک لونڈی گھر سے نکلی اور اس نے کہا ہم کئی دن سے فاقے میں ہیں اور یہ بڑھا روپیہ لانے والوں کو جھڑک دیتا ہے۔اس پر آپ نے نرمی سے اسے سمجھایا کہ دیکھو حلال بڑی نعمت ہے۔ہارون رشید نے چاہا کہ گھر والوں کو یہ روپیہ دے مگر انہوں نے بھی نہ لیا۔جو حلال رزق چاہتے ہیں اللہ تعالیٰ انہیں غیر معمولی حوصلہ دیتا ہے اور انہیں اپنی جناب سے رزق عطا فرماتا ہے اور حرام رزق سے کسی نہ کسی حیلے سے بچالیتا ہے۔(ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۲۳ مؤرخہ یکم اپریل ۱۹۰۹ صفحه ۲۸)