حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 425
۴۲۵ سُوْرَةُ الْبَقَرَة حقائق الفرقان ہی نہیں۔میرے ایک نوجوان دوست تھے۔میں ان کو درس قرآن شریف کے سنے کی تاکید کرتا تھا۔وہ میرے سامنے تو نہ کہتے مگر میرے پیچھے اپنے اس خیال کا اظہار کر دیا کرتے تھے کہ آسودگی ہو تو پھر قرآن بھی پڑھیں۔آخر جب وہ کسی عہدہ پر ممتاز ہوئے تو مجھے لکھا کہ بارہ برس ہوتے ہیں کہ میں قرآن شریف نہیں پڑھ سکا۔خدا کرے تم لوگ ایسے نہ بنو کہ تمہارا قرآن سنانے والا ایسے لوگوں سے ہو کہ اس کے سامعین ایسے ہوں جو نہ آنکھیں رکھتے ہوں کہ دیکھیں، نہ کان رکھتے ہوں کہ سنیں ، نہ زبان رکھتے ہوں کہ حق بولیں۔تم قرآن شریف سنے کو غنیمت سمجھو۔دنیا کے جھمیلے تو بھی کم ہونے میں آ نہیں سکتے۔ایک کتاب میں میں نے ایک مثال پڑھی ہے کہ ایک شخص ندی سے گذرنا چاہتا تھا اس نے تامل کیا کہ یہ موج گزر جائے تو میں گزروں مگر اتنے میں ایک اور آگئی۔آخر وہ اسی طرح خیال کرتے کرتے رہ گیا۔بس طریق یہی ہے کہ حلال طیب کھاؤ۔طیب کہتے ہیں اسے جو انسان کے لئے دکھ نہ دے اور پھر شکر کرو۔سات اصول بتائے ہیں ان کو ہر وقت زیر نظر رکھو۔حلال طیب کھاؤ۔سُوء وفحشاء وتقول نہ ہو۔تقلید بے جانہ ہو۔کبھی ایسے رنگ میں اپنے تئیں نہ بناؤ کہ گوش حق کے شنوا ، آنکھیں حق کی بینانہ رہیں۔یہاں تک یہ بیان فرمایا ہے کہ حق کے حصول کا ذریعہ حلال وطیب روزی ہے۔انسان فاقے پر فاقہ اُٹھائے مگر حلال کا رزق کھائے۔جو مالدار ہیں ان کی حالت نہایت نازک ہے۔غضب الہبی بھی مال والوں پر نازل ہوتا ہے۔خدا کی ہدایت سے محرومی بھی اکثر مال والوں کے حصہ میں آئی ہے۔چنانچہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے كَذلِكَ جَعَلْنَا فِي كُلِّ قَرْيَةٍ أكبر مُجْرِمِيهَا (الانعام: ۱۲۴) ایک حدیث میں ہے کہ اِبْلِيسُ كَانَ مِنْ خَزَانِ الْجَنَّةِ- گویا آدم کی مخالفت میں جس گروہ کو بڑی محرومی ہوئی وہ بھی مالداروں ہی کا گروہ تھا۔ایک دفعہ مولوی ریاض الدین احمد نے مجھ سے پوچھا کہ پانچ آدمی قوموں کے لیڈر سمجھے جاتے ہیں کیشب چندر، دیانند، رائے موہن لال، سرسید ، مرزا صاحب۔آپ کوئی موٹا ے اسی طرح ہم نے پیدا کئے ہر بستی میں جناب الہی سے قطع تعلق کرنے والے سردار گناہ گاروں کے۔(ناشر)