حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 424
حقائق الفرقان ۴۲۴ سُوْرَةُ الْبَقَرَة دیتے ہیں (نہیں) بلکہ ہم تو اسی چال پر چلیں گے جس پر پایا ہم نے اپنے باپ دادا کو۔بھلا اگر ان کے باپ دادا محض بے عقل ہوں اور راہ راست پر بھی نہ چلتے ہوں ( جب بھی کیا وہ انہیں کی چال پر چلیں گے )۔تفسیر۔شیطانی گناہ کے تین اصول ہیں۔ان میں سے آخری یہ ہے کہ آنْ تَقُولُوا عَلَى اللَّهِ مَا لَا تعلمون کہ جھوٹا خواب یا جھوٹا کشف یا جھوٹا الہام بنائے یا بلا حجت نیرہ کسی چیز کو حلال یا حرام، بھلا یا بُرا کہہ دے اور ایک یہ کہ شوء دوم فحشاء یعنی ہر ایسی بدی کہ دوسرے پر اس کا بداثر پڑے۔ایسے لوگوں کو جب کہا جائے کہ تم ما اَنْزَلَ کی تابعداری کرو تو وہ کہتے ہیں ہم اپنے باپ دادا کے پیرو ہیں۔لا يَعْقِلُونَ خواہ ان کے باپ دادا ایسے ہیں کہ اپنے تئیں کسی بد چیز سے روک نہ سکتے ہوں یہاں تک یہ باتیں بیان ہوئیں (۱) حلال کھاؤ (۲) طیب ہو (۳) بدیوں کو چھوڑ دو (۴) فحشاء سے پر ہیز کرو۔(۵) اللہ پر تقول چھوڑ دو (۶) اندھادھند تقلید چھوڑ دو (۷) کوئی لا یعقل لا یہ ہند کام کرتا ہوتو تم وہ نہ کرو۔(ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۲۳ مؤرخہ یکم اپریل ۱۹۰۹ء صفحه ۲۸،۲۷) بہت سے لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم مدارج تحقیقات پر پہنچے ہوئے ہیں۔اس غلط خیال نے بہت بڑا نقصان پہنچایا ہے۔اسی سے مشرکوں نے استدلال کر لیا بَلْ نَتَّبِعُ مَا الفَيْنَا عَلَيْهِ اب و نا۔غرض ایک راستباز کی شناخت کے لئے کبھی کوئی مشکل یہود یا نصاری یا منکرین امام پر نہ آتی اگر وہ سمجھتے کہ پاک رسول نے کیا دعوی کیا۔(الحکم جلد ۷ نمبر ۲ مؤرخہ ۷ ارجنوری ۱۹۰۳ صفحه ۱۲) ۱۷۲ - وَمَثَلُ الَّذِينَ كَفَرُوا كَمَثَلِ الَّذِى يَنْعِقُ بِمَا لَا يَسْمَعُ إِلَّا دُعَاء وَ ووو يداء - صُمٌّ بُكْمٌ عُمَى فَهُمْ لَا يَعْقِلُونَ - و نِدَاءً ترجمہ۔اور اُن لوگوں کی مثال جنہوں نے حق کو چھپایا اُس کے جیسی ہے جو اُس کو چلا چلا کر پکار رہا ہے جو نہیں قبول کرتا ہے مگر محض بلانا اور پکارنا۔بہرے ہیں ( حق سننے سے ) گونگے ہیں ( حق بولنے سے ) اندھے ہیں ( حق دیکھنے سے ) تو وہ کچھ بھی عقل نہیں رکھتے۔تفسیر - مثال ان لوگوں کی جو بے ایمان ہیں ایسی ہے جیسی کسی پر کوئی آوازے کستا ہے اور وہ سنتا