حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 415
حقائق الفرقان ۴۱۵ اور زمین کے درمیان نشان ہیں عقل مندوں کے لئے۔سُورَةُ الْبَقَرَة تفسیر۔چونکہ صرف فلسفیانہ ہستی باری کے ماننے سے انسان کو جناب الہی سے محبت اور اس پر ایمان، بلکہ اعلی محبت اور اعلیٰ ایمان اور مقامات قرب و رضوان نہیں مل سکتے اس لئے قرآن کریم ہستی باری تعالیٰ کے دلائل کے ساتھ ساتھ اپنے احسانات کا بسیط بیان فرماتا ہے۔از بس کہ فطرت انسانی میں یہ مادہ خمیر کیا گیا ہے کہ سلیم اور حق شناس قلوب محسن کے ساتھ محبت کرنے اور اطاعت کرنے میں کمال دلیری دکھاتے ہیں۔اس واسطے احسان الہی کا بیان ان دلائل کے ساتھ ساتھ ہوتا ہے اور یہ بھی فطرت انسانیہ کا تقاضا ہے کہ ہر ایک شخص اپنے سے زیادہ قوی ، زیادہ علم والے، زیادہ تر دانا کے کہنے کی قدر کرتا ہے اور بڑی قدر کرتا ہے اور ایسے قادر، حاکم حکیم کی ماتحتی کو اپنے لئے فخر وعزت یقین کرتا ہے۔اس واسطے اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں اپنی ربوبیت رحمانیت رحیمیت اور مالکیت اور کاملہ صفات کا بیان بڑے زور سے فرماتا ہے۔تو کہ آدمی کا ایمان و یقین احکام الہیہ پر بڑھے۔پھر اس ذریعہ سے اس مقام پر پہنچتا ہے جس کا نام وَرِضْوَانٌ مِّنَ اللَّهِ أَكْبَرُ (التوبة: ۷۲) ہے۔( نورالدین بجواب ترک اسلام کمپیوٹرائز ڈایڈ یشن صفحہ ۲۸،۲۷) یہ فطری بات ہے کہ جب مختلف اشیاء کو خاص ترتیب سے رکھا ہوا دیکھتے ہیں تو ایک بچہ بھی سمجھ جاتا ہے کہ ان کا اس ترتیب سے رکھنے والا ضرور کوئی ہے چہ جائیکہ ایک عقلمند انسان آسمان کو دیکھے، زمین کو دیکھے ، اس کی مختلف مخلوقات کو ایک خاص نظام میں دیکھے۔دن رات کے کاموں میں ایک خاص انتظام نظر آئے اور پھر یہ نہ مانے کہ ان کا مرتب کرنے والا بھی کوئی ہے میں تمہیں ایک قصہ سناتا ہوں۔دارالسلطنت بغداد میں کچھ ایسے آدمی جمع ہو گئے جود ہر یہ تھے۔ان میں سے چند آدمی ایک دفعہ حضرت امام ابوحنیفہ کے پاس آئے۔جب امام صاحب نے انہیں اپنے مکان میں جمع ہوتے دیکھا تو نہایت متفکر چہرہ بنالیا۔انہوں نے کہا حضرت آپ کس خیال میں ہیں؟ ہم تو ایک مسئلہ اے اور اللہ کی خوشنودی جو سب سے بڑھ کر بات ہے۔(ناشر)