حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 412
حقائق الفرقان ۴۱۲ سُورَة البَقَرَة جنگیں اور بڑی بڑی خونریزیاں اور جانفشانیاں انہی دو حرفوں پر تھیں۔انہی حرفوں کے ذریعہ سے اجنبی لوگ دور دور سے آکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیارے بن جایا کرتے تھے۔کیا تمہارے خیال میں یہ کوئی منتر جنتر ہے؟ نہیں۔یہ کوئی منتر جنت نہیں ہے کہ بے معنے منہ سے کہہ دینے سے کوئی شعبدہ نظر آ جاتا ہے۔جب یہ بات ہے تو کیا ہر ایک مسلمان کا فرض نہیں ہے کہ وہ کم از کم غور تو کر لے کہ یہ ہے کیا؟ کہ جس کے ذریعے سے سو برس کا شریر النفس دشمن معتبر دوست بن جاتا ہے اور سو برس کا دوست اس کے انکار سے دشمن بن جاتا ہے۔پیدائش کے بعد کچھ خواہشیں ہوتی ہیں جو کہ انسان کو لگی ہوئی ہوتی ہیں۔بھوک چاہتی ہے کہ غذا ملے اور شکم سیری ہو۔پیاس چاہتی ہے کہ ٹھنڈا پانی ملے۔آنکھ چاہتی ہے کہ کوئی خوش منظر شے سامنے موجود ہو۔کان چاہتے ہیں کہ سریلی اور میٹھی آواز ان میں پہنچے۔اسی طرح ہر ایک قوت الگ الگ اپنا تقاضا وقتا فوقتا کرتی ہے۔لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ انسان بعض وقت ایسے کام بھی کرتا ہے جن کو اس کا جی نہیں پسند کرتا۔بعض تو ان میں سے ایسے ہیں کہ قوم ، اپنے بیگانے ، برادری اور اہل محلہ اور شہر والوں کی مجبوری سے کرتا ہے اور بعض کام حاکموں کے ڈر سے کرنے پڑتے ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان میں کسی نہ کسی کی بات کے ماننے کا بھی مادہ موجود ہوتا ہے۔انسان تو درکنار حیوانوں میں بھی ہم ایک اطاعت کا مادہ پاتے ہیں۔بندروں کو دیکھو کہ کس طرح سے ایک شخص کی بات مانتے چلے جاتے ہیں اور اسی طرح سے سرکس میں کتے، گھوڑے، شیر، ہاتھی وغیرہ بھی اپنے مالک کا کہا مانتے ہیں۔پس انسان کو حیوانوں سے متمیز ہونے کے لئے ان سے کہیں بڑھ چڑھ کر اپنے آقا اور مولا کی اطاعت کرنی چاہیے۔اللہ تعالیٰ ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس چھوٹے سے کلمہ میں اول تو ہر ایک کو اپنے بیگانے یار، دوست ، خویش ، ہمسائے اور نفس و خواہش کی فرماں برداری سے منع فرمایا ہے اور یہ اس کلمہ کا اول حصہ لا الہ ہے۔لیکن اگر کسی کا بھی کہا نہ مانا جاوے تو زندگی محال ہوتی ہے۔انسان نہ کہیں اٹھ سکتا ہے، نہ بیٹھ سکتا ہے۔نہ کسی سے مل جل سکتا ہے، نہ صلاح مشورہ لے سکتا ہے۔نہ کوئی کسب و غیرہ کرسکتا