حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 411 of 680

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 411

حقائق الفرقان اس اللہ کے سوا کوئی بھی معبود نہیں۔۴۱۱ سُوْرَةُ الْبَقَرَة تصدیق براہین احمدیہ۔کمپیوٹرائز ڈایڈ یشن صفحہ ۲۱۱) اوپر کی آیات میں کفار پر لعنتوں کا ذکر ہے اب ان سے بچنے کا ایک نسخہ بتلایا ہے۔(۱) اللہ کی طرف جھک جانا جو اپنی ذات وصفات میں یگانہ ہے۔یہاں اس معبود کی دو عظیم الشان صفتوں کا ذکر ہے۔الرحمٰن۔بلا مبادلہ رحم کرنے والا۔الرَّحِيمُ - سچی محنتوں کو ضائع نہ کرنے والا بلکہ ان پر ثمرات مرتب کرنے والا۔اب اپنی ہستی۔اور صفت رحمانیت کا ثبوت دیتا ہے۔پہلا ثبوت آسمان و زمین کی پیدائش ہے اور رات و دن کا اختلاف۔ایک چھوٹی سی پیالی انسان کسی کے پاس دیکھے تو یہ کبھی وہم میں نہیں آتا کہ خود بخود بن گئی۔تو اتنا بڑا آسمان وزمین دیکھ کر یہ یقین کیوں حاصل نہ ہو کہ ان کا پیدا کرنے والا بھی کوئی ہے۔(ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۲۲ مؤرخه ۲۵ / مارچ ۱۹۰۹ء صفحه ۲۶) وَالهُكُمْ إِلهُ وَاحِدٌ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الرَّحْمَنُ الرَّحِيمُ (البقره: ١٦٤) لا إلهَ إِلَّا الله یہ ایک چھوٹا سا فقرہ ہے جسے ہر ایک طبقہ کے مسلمان خواہ مرد ہوں خواہ عورت بچہ ہو یا بوڑھا بداطوار ہو یا نیک اطوار اعلی ہو یا ادنی غرض کہ سب جانتے ہیں اور میں نے دیکھا ہے کہ دو برس اور ڈیڑھ برس کا بچہ بھی لا اله الا اللہ جانتا ہے۔اگر کسی سے سوال ہو کہ میاں تم مسلمان ہو؟ تو وہ حجٹ لا إلهَ إِلَّا اللہ پڑھ کر اپنے مسلمان ہونے کا ثبوت دے دیتا ہے۔اب غور کرو اور سوچو کہ اس اقرار اور اس کے تکرار کرنے میں کیا سر ہے؟ کیا یہ ایک چھوٹی سی بات ہے جو کہ اہل اسلام کو بتلائی گئی تھی۔نہیں ، ہر گز نہیں۔اس چھوٹے سے فقرے میں دو باتیں ہیں۔اول حصہ میں تو انکار اور دوسرے میں اقرار ہے۔اور ان چند ایک چھوٹے حرفوں میں اس قدر قوت اور زور ہے کہ اگر ایک شخص سو برس تک کا فرر ہے اور کفر کے کام بھی کرتا رہے لیکن اگر وہ اپنے آخر وقت میں لا إلهَ إِلَّا اللہ کہہ دے تو وہ کافروں سے الگ اور مسلمانوں میں شمار ہونے لگ جاتا ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ و