حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 403
حقائق الفرقان لد له سُورَةُ الْبَقَرَة ہے۔ خاوند نے سمجھا کہ ٹھیک کہتی ہے جبھی تو اس نے عمدہ لباس پہنا ہے غرض دونوں نے کھانا کھایا اور ہر طرح سے لطف اٹھایا جب کھانا کھا کر اور جماع سے بھی فارغ ہو چکے تو عورت نے خاوند سے پوچھا ہمارے پاس کسی شخص کی امانت کچھ روز رہے پھر وہ صاحب امانت اپنی امانت مانگنا چاہے تو ہم کو بخوشی وہ امانت دے دینا چاہیے یا نہیں ؟ خاوند نے کہا کہ امانت والے کو دینا چاہیے۔ پس عورت نے کہا کہ بچہ بھی امانت کے طور پر ہمارے پاس تھا۔ صاحب امانت نے اسے لے لیا۔ پھر خاوند تر ساں و ہراساں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور سارا ماجرا بیان کیا ۔ حضور نے فرمایا کہ اس صبر کے معاوضہ میں جو تیری بیوی نے کیا اللہ تعالیٰ نے ان کو سات یا نو بچے دیئے جو سب کے سب قاری ہوئے ایک شخص بیان کرتا ہے کہ میں نے ان سب کو دیکھا ہے۔ دیکھو کس قدر بدلہ عظیم اللہ تعالیٰ نے ایک صبر کرنے پر دیا۔ سنو؟ عورتوں میں دستور ہے کہ جب دو چار مل کر بیٹھتی ہیں تو غیبت ، بد گوئی ، گلہ اور طرح طرح کی شرارتیں کرتی ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں جب عورتیں آپ کی مرید ہونے کو آتی تھیں تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ يَاأَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا جَاءَكَ الْمُؤْمِنَتُ يُبَايِعُنَكَ عَلَى أَنْ لَا يُشْرِكْنَ بِاللَّهِ (الممتحنة : ١٣) یعنی اے محمد رسول (صلی اللہ علیہ وسلم ) جب تیرے پاس مومن عورتیں اس غرض کے واسطے آویں کہ وہ تجھ سے بیعت کریں پس ان سے یہ اقرار لے کر بیعت کر کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو۔ یعنی کوئی منت اور نذر غیر اللہ کی نہ مانیں اور نہ غیر اللہ سے مرادیں مانگیں ۔ چوری نہ کریں۔ زنانہ کریں ہاتھ کا زنا ، کان کا زنا، ناک کا ، آنکھ کا اور وہ زنا تو بدرجہ اولیٰ نہ کریں جسے عام زنا یا بدکاری کہتے ہیں، اپنی اولاد کو قتل نہ کریں۔ اولا د کو قتل کرنے کی کئی راہیں ہیں ۔ اوّل تو اس وقت کئی عورتیں اپنی لڑکیوں کو جب وہ پیدا ہوتی تھیں مار ڈالتی تھیں ۔ چنانچہ اب بھی میں دیکھتا ہوں کہ ایسا ہوتا ہے۔ دوئم اولاد ہونے کے بعد ایسی دوا کھاتی ہیں کہ جو مانع حمل ہو۔ تیسر احمل کا گرا لے اے نبی ! جب تیرے پاس ایماندار عورتیں آئیں کہ تجھ سے بیعت کریں اس بات کی کہ شرک نہ کریں گی نہ اللہ کے ساتھ کسی کا ۔ (ناشر)