حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 402
حقائق الفرقان وو ۴۰۲ سُوْرَةُ الْبَقَرَة الْمُهْتَدُونَ یعنی مصائب پر صبر کرنے والوں اور انا للہ کہنے والوں کو تین طرح کے انعامات ملتے ہیں۔ا_صلوات ہوتے ہیں ان پر اللہ کے۔۲۔رحمت ہوتی ہے ان پر اللہ کی۔۔اور آخر کار ہدایت یافتہ ہوکر ان کا خاتمہ بالخیر ہوجاتا ہے۔اب غور کرو جن مصائب کے وقت صبر کرنے والے انسان کو ان انعامات کا تصور آ جاوے جو اس کو اللہ کی طرف سے عطا ہونے کا وعدہ ہے تو بھلا پھر وہ مصیبت ، مصیبت رہ سکتی ہے اور غم غم رہتا ہے؟ ہر گز نہیں ! پس کیسا پاک کلمہ ہے الحمد للہ اور کیسی پاک تعلیم ہے وہ جو مسلمانوں کو سکھائی گئی ہے! یہ نہایت ہی لطیف نکتہ معرفت ہے اور دل کو موہ لینے والی بات۔یہی وجہ ہے کہ قرآن شریف اسی آیت سے شروع ہوا اور رسول اکرم صلعم کے تمام خطبات کا ابتدا بھی اسی سے ہوا ہے۔الحکم جلد ۱۲ نمبر ۱۸ مؤرخه ۱۰ / مارچ ۱۹۰۸ صفحه ۳،۲) میں نے تمہیں یہ چند آیتیں جو قرآن کریم کی سنائی ہیں ان میں اللہ تعالیٰ نے چند ایک نصیحتیں اپنے بندوں کو فرمائی ہیں جن میں سے ایک صبر بھی ہے۔صبر کے نتیجے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو کس طرح اور کیونکر دیتا ہے اس کی بہت سی مثالیں ہیں۔جن کو اگر مفصل بیان کیا جاوے تو بیان بہت لمبا ہو جاتا ہے مگر میں تمہیں بتلائے بغیر بھی نہیں رہ سکتا۔شاید تم میں کوئی نیک بی بی ہو جو اس پر محض اللہ تعالیٰ کی رضاء کے لئے عمل کرے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک عورت تھی جس کا خاوند زمینداری کرتا تھا۔ان کا لڑکا بیمار تھا۔ایک روز خاوند باہر کام پر گیا اور پیچھے سے لڑ کا فوت ہو گیا۔اس کی بیوی نے لڑکے کو ایک چار پائی پر ایک کونے میں لٹا دیا اور آپ خوب عمدہ لباس پہن کر خاوند کے آنے سے پیشتر عمدہ کھانا تیار کر کے شاداں و فرحاں بیٹھ رہی۔جب خاوند آیا تو اس نے لڑکے کا حال دریافت کیا۔عورت نے جواب دیا اس نے آج آرام کیا