حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 400
حقائق الفرقان لد ۔۔ سُورَةُ الْبَقَرَة دیا۔ (۲) رشوت ، حرامزدگی ، باطل سے مال ملتا ہے اُسے نہ لیا۔ غرض نَقْصٍ مِنَ الْأَمْوَالِ ہوتا ہے زکوۃ دینے سے۔ حرام سے بچنے سے یا کسی النبی حکمت کے ماتحت کسی چیز کے قبضہ سے نکل جانے سے۔ وَالْأَنْفُسِ ۔ جانوں کو خدا کی راہ میں خرچ کرنا۔ الثَّرات ۔ پھلوں کی زکوۃ ۔ اور اس سے مراد اولا د بھی ہے۔ انا لله ۔ ایک شخص کا کوئی بہت پیارا مر گیا۔ وہ بہت مضطرب تھا۔ ایک دوست نے اسے آکر ایک کہانی سنائی کہ ایک شخص نے کسی کے پاس جواہرات امانت رکھے تھوڑے دن بعد جب وہ واپس لینے کو آیا تو اس نے رونا چیخنا چلا نا شروع کر دیا اس پر وہ شخص بولا جس کا بہت پیارا مر گیا تھا کہ پھر تو وہ بڑا ہی بیوقوف تھا جو امانت کو واپس دیتے ہوئے روتا ہے۔ جب اس کے منہ سے یہ بات نکلی تو اس کے دوست - نے کہا آپ اپنی طرف نگاہ کریں ۔ لڑکے بھی آپ ۔ لڑکے بھی آپ کے خدا کی امانت تھے اگر خدا نے واپس لے لئے تو پھر جزع فزع کا کیا مقام ہے؟ إِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ ۔ یعنی اگر خدا با وجود اس کا مالک ، اس کا بادشاہ اور اس کا خالق و رب ہونے کے کوئی چیز لے لیتا ہے تو غم کی بات نہیں کیونکہ ہم نے بھی اسی کے حضور جانا ہے اور وہاں جا کر اس کا نعم البدل پانا ہے بلکہ اسی دنیا میں بھی ۔ میرے نوٹڑ کے لڑکیاں (عبداللہ ، اسامہ، حفیظ الرحمن، محمد احمد ، عبدالقیوم ، امتہ اللہ ، رابعہ ، عائشہ، امامہ ) مر چکے ہیں ہر ایک کے مرنے پر میں نے یہی خیال کیا ہے کہ آخر ایک دن ہم نے جدا ہونا تھا یا میں نے مرنا تھا یا ان میں سے کسی نے ۔ بہر حال خدا کے پاس جا کر پھر جمع ہونا تھا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے مجھے اور بہت اولا ددے دی ۔ وَالْحَمْدُ لِلهِ ۔ أُولَئِكَ عَلَيْهِمْ صَلَونَ - صَلَوات کہتے ہیں کہ بدی کا اثر اور سزا جس بات پر مرتب نہ ہو۔ ان خاصه عنایات کا نام صلوات ہوتا ہے۔ رحمة ۔ یعنی علاوہ ان خاص عنایتوں کے عام رحمتوں سے بھی حصہ ملتا ہے۔ یہ تو ایک دعوی تھا اب اس کا ثبوت میں بیان فرماتا ہے۔ (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۲۲ مؤرخہ ۲۵ مارچ ۱۹۰۹ء صفحه ۲۵)