حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 395
حقائق الفرقان ۳۹۵ سُوْرَةُ الْبَقَرَة يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلوة۔یعنی اے ایمان والو! تم پر بڑی مشکلات کا وقت ہے تم میری مدد اور عون حاصل کرو اس کا طریق ایک صبر اور ایک صلوۃ ہے۔صبر کے دو معنے ہیں ایک تو عام طور پر روزہ رکھنا اور واقعی میں روزہ اور نماز دونوں جناب الہی کی طرف توجہ کا بڑا ذریعہ ہیں۔دوسرے معنے صبر کے نیکیوں پر مستقل رہنا اور بدیوں کا ارتکاب نہ کرنا۔مشکلات کے وقت انسان اللہ کی فرمانبرداری اور اطاعت کو چھوڑ بیٹھتا ہے۔مثلاً بیماری ہو یا ہتک عزت ہو۔کوئی مقدمہ ہو یا تجارت کا مقابلہ ہو یا کسی کام میں اُسے خسارہ ہوا ہو تو ایسی تمام مشکلات کے وقت ایک ناعاقبت اندیش انسان اللہ تعالیٰ کی نارضامندی کو جائز کر لیتا ہے مگر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ایسے وقت تم یہ نہ کرنا کہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرو اور اطاعت الہی میں بہانہ تلاش کر کے کمزوری کرو۔انسان اگر خدا کی مدد لینا چاہتا ہے تو اس کا یہی طریق ہے کہ مطلق عبادت کو ترک نہ کرے اور نہ کسی نافرمانی کا ارتکاب کرے۔روزہ کا اصل میں یہی مطلب ہوتا ہے کہ بقائے نوعی اور بقائے شخصی کے لئے جو اُسے ضروریات ہیں اُسے وہ ترک کئے ہوتا ہے اور باوجو د ضرورت کے ترک کرتا ہے تو پھر غیر ضروری باتوں کو کب اختیار کرتا ہے۔تو یا درکھو کہ اللہ تعالیٰ کی مدد و طاقت پر مستقل رہنے اور بدی سے بچنے پر آیا کرتی ہے۔صبر کے بعد پھر دعا ( صلوۃ) کرے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ان الله مع الصبرين صابروں کا ہم ساتھ دیتے ہیں مَعَ البِرین کے لفظ سے مجھے بہت بڑی خوشی ہؤا کرتی ہے کیونکہ جب ایک دولتمند وکیل اور حاکم یا کوئی اور ذی وجاہت کسی کو یہ کہہ دے کہ ہم تیرے ساتھ ہیں تو اسے کس قدر خوشی حاصل ہوتی ہے اور اس کی ڈھارس بندھتی ہے تو پھر جب احکم الحاکمین بتلا دے کہ ہم صابروں کے ساتھ ہیں تو کس قدر خوشی ہونی چاہیے! اس سے آگے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم میں سے بہت سے قتل تو ہوں گے مگر وَلَا تَقُولُوا لِمَنْ يُقْتَلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ اَموَات تم یہ نہ سمجھنا کہ جو اللہ تعالیٰ کی راہ میں مریں گے وہ مردہ ہوگئے بل احیا و لكن لا تَشْعُرُونَ بلکہ وہ زندہ ہیں لیکن تم کو ان کی زندگی کا شعور نہیں ہے۔اللہ کی راہ میں جو مارا جاوے اسے احیاء کہتے ہیں اور تین طرح سے وہ زندہ ہوتے ہیں جن کو ایک جاہل بھی سمجھ سکتا ہے اور