حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 393 of 680

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 393

حقائق الفرقان ۳۹۳ کہ لم اكنُ بِدُعَابِكَ رَبِّ شَقِيًّا (مريم: ۵) سُورَةُ الْبَقَرَة افسوس کہ مسلمانوں کے پاس ایسا عمدہ نسخہ ہو اور پھر بھی وہ ناکام رہیں۔کسی کو بیبیوں کی نسبت شکایت کسی کو قرض کی نسبت کسی کو عدم ترقی کا شکوہ۔یہ سب کچھ کیوں ہے؟ اس لئے کہ استعانت کا یہ طرز چھوڑ دیا۔جب سلطنت اسلام موجود تھی تو اس وقت کی حالت کا ایک شخص نقشہ کھینچتا ہے۔شب چو عقد نماز بر بندم چه خور د بامداد فرزندم که ( گلستان سعدی باب دوم ) اس وقت کا یہ حال ہے تو آج جو کچھ ہو ا تھوڑا ہے۔دنیا طلبی نے لوگوں کو پریشان کر رکھا ہے۔ایک مسلمان بادشاہ دہلی سے ملتان جاتا تھا خوا جہ فرید الدین سے اس کے وزیر کو عقیدت تھی۔اپنے پیر و مرشد کے آگے کچھ نقد روپیہ اور کچھ کا غذر کھے۔نقد روپیہ تو خوا جہ صاحب نے لے لیا اور گاؤں کی نسبت پوچھا۔یہ کیا ہے؟ اس نے کہا۔یہ دس گاؤں بطور جا گیر پیش کرتا ہوں تا لنگر خانہ وغیرہ کے خرچ میں کوئی دقت پیش نہ آئے۔فرمایا۔اس کو اٹھا لو۔حدیث میں آیا ہے کہ جس قوم میں زمینداری کا سامان آ جائے وہ ذلیل ہو جاتی ہے۔قرآن شریف سے استنباط فرمایا ہے جہاں یہودیوں کا واقعہ بیان فرمایا که اهْبِطُوا مِصْرًا فَانَ لَكُم مَّا سَأَلْتُم " (البقرة: ۶۲) اور پھر ضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ الذِلَّةُ وَ المَسْكَنَةُ (البقرۃ: ۶۲) پھر کہتے ہیں کہ ایک شخص آیا اور تنگی معیشت کا ذکر کیا کہ اتنے روپیہ کے سوا میرے پاس کچھ نہیں۔ہنس کر کہنے لگے کہ میرے گھر ساری عمر میں اتنا کبھی جمع نہیں ہوا۔یہ عجیب کیمیا ان کے پاس موجود تھی۔اہل اللہ لوگ اپنی خواہشیں بہت مختصر رکھتے ہیں اور پھر انہیں حصولِ مطالب کا ایک گرآتا ہے اور وہ گر یہی ہے جو او پر بیان ہوا۔اموات۔جو لوگ خدا کی راہ میں مقابلہ کرتے ہیں اور اس حالت میں فوت ہو گئے یہ مت کہو کہ وہ اپنی عمریں برباد کر گئے وہ عمریں برباد نہیں ہوئیں ان کے اعمال غیر منقطع ہیں اس لئے انہوں نے ے اور تجھ سے دعا مانگ کر کبھی محروم نہیں رہا۔کے ترجمہ۔رات کو میرا دل نماز میں کیسے لگے جب یہ پریشانی دامن گیر ہو کہ صبح سویرے میرے بچے کیا کھائیں گے۔سے تم کسی شہر میں چلے جاؤ تم جو تم لوگ مانگتے ہو وہ تمہیں مل جائے گا۔ہے اور ان پر ذلت اور مسکینی کی مار پڑی۔(ناشر)