حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page iv of 680

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page iv

اسی طرح آپ کی تصانیف کے بارہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں۔مَنْ أَرَادَ حَلَّ غَوَا مِضِ التَّنْزِيلِ وَاسْتِعْلَامَ أَسْرَارِ كِتَابِ الرَّبِ الْجَلِيْلِ فَعَلَيْهِ بِاشْتِغَالِ (آئینہ کمالات اسلام صفحه ۵۸۴) هذِهِ الْكُتُبِ جو شخص قرآن کریم کے عمیق مطالب کو حل کرنے اور رب جلیل کی کتاب کے اسرار جاننے کا ارادہ رکھتا ہوا سے چاہیے کہ آپ کی کتب کا مطالعہ کرے۔آپ کو قرآن کریم سے جو محبت تھی اس کا ذکر کرتے ہوئے آپ خود فرماتے ہیں:۔" مجھے قرآن مجید سے بڑھ کر کوئی چیز پیاری نہیں لگتی۔ہزاروں کتابیں پڑھی ہیں ان سب میں مجھے خدا کی ہی کتاب پسند آئی۔“ بدر ۱۸ /جنوری ۱۹۱۲ء صفحہ ۷ ) قرآن میری غذا، میری تسلی اور اطمینان کا سچا ذریعہ ہے اور میں جب تک اس کو کئی بار مختلف رنگ میں پڑھ نہیں لیتا مجھے آرام اور چین نہیں آتا۔“ اور فرمایا کرتے تھے۔ترجمۃ القرآن شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی صفحه ۴۶) "خدا تعالیٰ مجھے بہشت اور کشر میں نعمتیں دے تو میں سب سے پہلے قرآن شریف مانگوں گا تاکہ حشر کے میدان میں بھی اور بہشت میں بھی قرآن شریف پڑھوں ، پڑھاؤں اور سنوں۔“ (تذکرۃ المہدی جلد اوّل صفحہ ۲۴۶) آپ نے ساری عمر قرآن کریم کے علوم کے اکتساب میں گزاری اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ارشاد پر جب آپ ہجرت کر کے قادیان دارلامان تشریف لائے تو اُس دن سے وفات تک نہایت یکسوئی اور نہایت با قاعدگی کے ساتھ قرآن کریم کے پڑھنے اور پڑھانے میں اپنی زندگی کے اوقات صرف فرمائے۔قادیان میں رمضان المبارک کے خصوصی درس کے علاوہ آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی میں بھی اور آپ کی وفات کے بعد بھی سارا سال قرآن کریم کا باقاعدگی سے درس دیتے تھے۔