حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 381 of 680

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 381

حقائق الفرقان ۳۸۱ سُورَة البَقَرَة اور نہیں کیا تھا ہم نے وہ قبلہ جس پر تو تھا مگر اس لئے کہ ظاہر ہو جاوے کہ کون رسول کے تابع ہے اُس سے جو پھر جاتا ہے ایڑی پر۔( فصل الخطاب لمقدمہ اہل الکتاب۔حصہ دوم صفحہ ۳۳۱ حاشیہ) تحویل قبلہ کے بارے میں بہت سی بحثیں ہیں اور آج کل تو زیادہ تر یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ مسلمان کعبہ کی عبادت کرتے ہیں جو بالکل غلط ہے کیونکہ عبادت تو یہ ہے کہ جلب نفع و دفع مضرت کے خیال سے کسی کی غایت درجہ تعظیم کی جائے اور کعبہ نہ تو نافع ہے نہ ضار۔پس عبادت کعبہ کی نہیں کی جاتی بلکہ رب الکعبہ کی۔۲۔ساری نماز پر اوّل سے آخر تک غور کر لو کعبہ کی مدح و ثناء اس میں کہیں بھی نہیں۔۔عبادت کی جاتی ہے اس کی جو حسن و احسان کا سر چشمہ ہو، جو صمد ہو مگر کعبہ اس کا مصداق نہیں۔۴۔کسی کی طرف منہ کرنا یہ امر کوئی عبادت نہیں کہلاتا کیونکہ تمام آدمی آخر کسی نہ کسی طرف منہ کر کے ہی کھڑے ہوتے ہیں پھر نماز میں نیت استقبال الی القبلہ شرط نہیں۔۵۔ایک حکم ہوتا ہے ایک حاکم۔پس ہم تو حاکم کے حکم کی تعمیل کرتے ہیں اور اس طرح پر قبلہ رخ نماز ادا کرنا خانہ کعبہ کی عبادت نہیں بلکہ اس حکم کے دینے والے کی عبادت ہے۔- إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ ے میں اقرار کیا جاتا ہے کہ زبان و دیگر جوارح سے آے رب العلمين ، الرحمن الرحیم، مالک یوم الدین تیری ہی عبادت کرتا ہوں۔پس قبلہ رُخ ہونا کعبہ کی پرستش کس طرح بن سکتا ہے اور نماز شروع کرتے ہی اِنِّي وَجَهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السمواتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا وَ مَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ " (الانعام: ۸۰) پڑھا جاتا ہے جس سے تمام ایسے اعتراض رفع ہو جاتے ہیں اور ان کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی۔1 (اے سب خوبیوں والے صاحب!) ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں حالانکہ ہم تجھی سے مددبھی چاہتے ہیں۔(ناشر ) ۲۔میں نے تو اپنا منہ اسی کی طرف پھیر لیا ہے جس نے آسمان اور زمین بنائے سب سے الگ ہو کر ایک ہی کا بن کر۔میں تو مشرکوں میں سے نہیں ہوں۔( ناشر )