حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 376
حقائق الفرقان سُوْرَةُ الْبَقَرَة إلا عَلَى الَّذِينَ هَدَى اللهُ وَمَا كَانَ اللهُ لِيُضِيعَ إِيْمَانَكُمْ إِنَّ اللَّهَ بِالنَّاسِ دو، لَرَءُوفٌ رَّحِيمٌ - ترجمہ۔قریب ہے کہ بے وقوف کہیں گے کہ مسلمانوں کو کس نے پھیر دیا اُس قبلہ کی طرف سے جس کی طرف وہ پہلے تھے۔ان سے کہہ دو کہ مشرق اور مغرب (سب) اللہ ہی کا ہے وہ جس کو چاہتا ہے سیدھی راہ چلاتا ہے۔اور ایسی باتوں کے سبب سے ہم نے تم کو ایک جماعت اعلیٰ درجہ کی نیکی سکھانے والی بنایا ہے تاکہ تم لوگوں کے سامنے گواہ یعنی نمونہ بنو اور رسول تمہارا گواہ یعنی نمونہ ہو (اور اے پیغمبر!) جس قبلہ کی طرف تم تھے اُس کو اس لئے ہم نے بدل دیا کہ ہم دیکھیں کہ کون رسول کی پیروی کرتا ہے الگ ہو کر اُس سے جو پھر جاتا ہے الٹے پاؤں اور یہ قبلہ کا بدلنا ) بڑا شاق گزرا مگر اللہ نے جن کو ہدایت دی (انہیں کچھ بڑی بات معلوم نہ ہوئی ) اور اللہ ایسا نہیں کہ تمہاری نماز ضائع کر دے۔بے شک اللہ لوگوں پر بڑی شفقت رکھنے والا سچی کوشش کا بدلہ دینے والا ہے۔تفسیر۔میں نے اس آیہ کریمہ پر مدتوں غور کیا ہے ہمارے مفسر لوگ تحویل قبلہ کے متعلق لکھتے ہیں۔مجھ کو روایت سے باہر جانے میں جب تک الہام یا وحی نہ ہو نکلنا دشوار ہے ہیں صحابی ہیں جو اس آسیہ کو تحویل قبلہ کے متعلق بتاتے ہیں۔بنی اسرائیل کے متعلق سورۃ البقر میں خوب بوچھاڑ ہے۔اُن کو اور ان کے علماء وغیرہ سب کو خوب خوب بتایا ہے اور ان کے حالات گزشتہ یاد دلائے ہیں۔ان کی غلط کاریاں اور اپنے احسانات و انعامات یاد دلائے ہیں۔پھر اُن کی غلطیاں اور جہالتیں بتا کر ابراہیمی لوگوں کی غلطیاں بتائی ہیں۔میرے استاد حضرت رحمت اللہ صاحب کو نبی کریم نے خواب میں بتایا تھا کہ تم سے مباحثہ ہو گا۔تم نے آیت ۱۹ اور ۲۱ سے استدلال کرنا۔یہ اعتراض ہوتا ہے کہ جب تم ابراہیمی تھے تو تم نے قبلہ سے کیوں منہ پھیرا ؟ خدائے تعالیٰ فرماتا ہے کہ سب مشرق و مغرب ہمارا ہی ہے۔ہم اپنے مصالح سے جس کو چاہیں ہدایت کریں۔( البدر۔کلام امیر حصہ دوم مورخه ۲۱ / نومبر ۱۹۱۲ صفحه ۷۹)