حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 373 of 680

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 373

حقائق الفرقان ۳۷۳ سُوْرَةُ الْبَقَرَة نہ صحابہؓ صرف خودامن میں ہوئے بلکہ دوسروں کے امن کا موجب ہوئے۔چوتھی پیشگوئی - اَيْنَمَا تُوَلُّوْا فَثَمَ وَجْهُ اللهِ (البقرة: ۱۱۶) جدھر صحابہ نے قدم اُٹھا یاوہی ملک تصرف میں آیا۔پانچویں پیشگوئی۔إِنَّا أَرْسَلْنَكَ بِالْحَقِّ بَشِيرًا وَنَذِيرًا ( البقرة: ۱۲۰) چنانچہ ماننے والوں کو بشارتیں عطا ہوئیں اور منکروں کو سزائیں ہوئیں۔چھٹی پیشگوئی یہ ہے جو او پر بیان ہوئی۔( ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۲۱ مؤرخه ۱۸ / مارچ ۱۹۰۹ء صفحه ۲۲) یوں تو قرآن مجید کا لفظ لفظ اعجاز ہے اور آیت آیت نشان۔لیکن اس سے پہلے پارہ میں سات پیشگوئیاں بہت زبردست ہیں:۔ا وَبَشِّرِ الَّذِينَ آمَنُوا وَ عَمِلُوا الصّلِحَتِ اَنَّ لَهُمْ جَنْتٍ تَجْرِى مِنْ تَحْتِهَا الانْهرُ (البقرة: ۲۲) جو ایمان لائے جنہوں نے عمل صالح کئے ان کے لئے باغات ہیں جن کے نیچے نہریں پڑی بہہ رہی ہیں۔دنیا میں اِس کا نظارہ یوں نظر آیا کہ وہ تمام ممالک جو بوجہ پنے باغات اپنی زرخیز زمین اور چشموں اور نہروں کے مشہور ہیں مسلمانوں کے قبضے میں آئے اور ایک ملک کے بعد دوسرا ملک اسی جیسا جب فتح کرتے اور یہ فتوحات پیہم ہوتی تھیں تو اس آیت کے معنے کھلتے تھے۔كُمَا رُزِقُوا مِنْهَا مِنْ ثَمَرَةٍ رِزْقًا قَالُوا هَذَا الَّذِي رُزِقْنَا مِنْ قَبْلُ وَ أَتُوا بِهِ مُتَشَابِهًا (البقرة: ۲۶) یعنی جب جنت سے کوئی پھل ان کو دیا جائے گا تو وہ پکار اُٹھیں گے یہ تو وہی ہے جو پہلے ہم کو دیا جا چکا ہے اور دیئے جائیں گے اس جیسا اور۔دوم - أوليك هُمُ الْمُفْلِحُونَ (البقرة: 1) یعنی جو غیب پر ایمان لاتے ہیں اور نماز قائم رکھتے ہیں اور جو کچھ اللہ کے دیے سے دیتے ہیں اور جو ایمان لاتے ہیں اُس پر جو تیری طرف اُتارا گیا اور جو کچھ ا تم جس طرف منہ پھیرو ادھر اللہ ہی کی توجہ کا لحاظ رکھو۔سے بے شک ہم نے تجھے حق اور حکمت کے ساتھ بھیجا ہے تو ( ماننے والوں کے لئے ) بشارت دینے والا اور (منکروں کے واسطے ) ڈرانے والا ہے۔(ناشر)