حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 372
حقائق الفرقان ۳۷۲ سُورَةُ الْبَقَرَة اور جو کچھ موسیٰ اور عیسی اور دوسرے نبیوں کو ان کے رب کی طرف سے ملا ہے (اسے بھی ہم نے مان لیا ہے ) ہم تو ان اللہ کے رسولوں میں کچھ بھی فرق نہیں کرتے سب کو رسول مانتے ہیں اور ہم اس ایک ہی اللہ کے فرمانبردار ہو چکے ہیں۔تفسیر قُولُوا آمَنَّا بِاللَّهِ وَمَا أُنْزِلَ إِلَيْنَا وَ مَا أُنْزِلَ إِلَى إِبْرھم۔کہ ہم نے یقین کیا اللہ پر اور جو اُتر اہم پر اور جو اُترا ابراہیم پر۔فصل الخطاب لمقدمہ اہل الکتاب حصہ دوم صفحہ ۲۹۸ حاشیه ) ۱۳ - فَإِنْ آمَنُوا بِمِثْلِ مَا آمَنْتُم بِهِ فَقَدِ اهْتَدَوا ۚ وَ إِنْ تَوَلَّوْا فَإِنَّمَا هُمْ فِي شِقَاقٍ فَسَيَكفِيكَهُمُ اللهُ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ۔ترجمہ۔پھر اگر یہ اہل کتاب (یعنی یہود اور نصاری) اسی طرح ایمان لائیں جس طرح تم ایمان لائے ہو تو بے شک وہ سیدھا راستہ پا جائیں گے اور اگر منہ پھیر لیں گے تو اس کے سوا نہیں کہ وہ ایک ضد پر اڑ رہے ہیں اللہ تمہیں کافی ہے ان کی مخالفت کے لئے اور وہ بڑا سننے والا بڑا جاننے والا ہے۔تفسیر۔پھر اگر وہ یقین لاویں جس طرح پر تم یقین لائے تو راہ پاویں اور اگر پھر جاویں تو اب وہی ہیں ضد پر۔سواب کفایت ہے تیری طرف سے ان کو اللہ اور وہی ہے سنتا جانتا۔شقاق - ضد میں۔فصل الخطاب لمقدمہ اہل الکتاب حصہ دوم صفحه ۲۵۹ حاشیه ) فَسَيَكفِيكَهُمُ اللهُ یہ ایک پیشگوئی ہے کہ سارا جہان ایک طرف ہوا اور تو اکیلا ایک طرف۔سب وو کے مقابلہ میں صرف ہم تیرے لئے کافی ہیں۔رکوع اول میں ایک پیشگوئی ہے أُولَبِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ یعنی مظفر و منصور ہوں گے۔دوسری پیشگوئی۔بَشِّرِ الَّذِينَ آمَنُوا وَ عَمِلُوا الظَّلِحَتِ أَنَّ لَهُمُ جَنَّتِ (البقرة: ۲۶) چنانچه اسی دنیا میں ان کو باغات ملے۔تیسری پیشگوئی۔لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ (البقرة : ۱۱۳) چنانچہ وہ خوف جاتا رہا لے اچھی خبر سنا دوان لوگوں کو جنہوں نے اللہ کو مانا اور بھلے کام کئے یہ کہ ان کے لئے عمدہ عمدہ باغ ہیں۔نہ اُن کو کچھ خوف ہے اور نہ وہ غم رکھتے ہیں۔(ناشر)