حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 371
حقائق الفرقان سُورَة البَقَرَة پس اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ کی دعا کرو۔علوم پر ناز اور گھمنڈ نہ کرو۔رنج میں راحت میں اور عُسر یسر میں قدم آگے بڑھاؤ۔الحکم جلدے نمبر ۲ مورخہ ۱۷؍جنوری ۱۹۰۳، صفحہ ۱۳) ١٣٦ وَقَالُوا كُونُوا هُودًا أَوْ نَصْرِى تَهْتَدُوا قُلْ بَلْ مِلَّةَ إِبْرَهِمَ حَنِيفًا وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ - ترجمہ۔اور ان کا یہ کہنا کہ یہود ہو جاؤ یا نصاری بن جاؤ جب نجات پاؤ گے ( بالکل جھوٹ ہے ) تم جواب دو کہ ہم نے تو ابراہیمی طریقہ اختیار کر لیا ہے ابراہیم سب طرف سے منہ پھیر کرا اللہ کو پوجنے والا تھا اور وہ ہرگز مشرکوں میں سے نہ تھا۔تفسیر۔كُونُوا هُودًا أَوْ نَصْرُى تَهْتَدُوا۔فرماتا ہے کہ یہودی و نصرانی بننے میں (اسی طرح تم سمجھو صرف مرزائی کہلانے میں ) بھلائی نہیں بلکہ مومن کی شان یہ ہے کہ فرمانبرداری کرے جس جس وقت جناب النبی کوئی حکم دیں مان لے۔اس میں ان لوگوں کا رد بھی ہے جو کہتے ہیں کہ ہم اپنے نبی کو مانتے ہیں ہمارے پاس کتاب ہے ہمیں کسی اور امام یا مجد دیا ہدایت یا وحی کی ضرورت نہیں۔مومن کی شان تو یہ ہے کہ ہم ایمان لائے جو پہلے اتر چکا اور جواب ہماری طرف اترا۔ہم ایسا کبھی نہیں کریں گے کہ بعض احکام کو یا انبیاء کو مانیں اور بعض کو نہ مانیں۔سوائے اسلام کے کسی نے اس اصل سے فائدہ نہیں اُٹھایا کہ اپنے سے پہلے تمام انبیاء اور ان کی تعلیمات کو بھی سچا مانتا ہے اور موجودہ کو بھی اور بعد آنے والی ہدایتوں پر بھی ایمان لانے کی ہدایت کرتا ہے۔ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۲۱ مؤرخه ۱۸ / مارچ ۱۹۰۹ء صفحه ۲۲،۲۱) ۱۳۷ - قُولُوا آمَنَّا بِاللَّهِ وَمَا اُنْزِلَ إِلَيْنَا وَمَا أُنْزِلَ إِلَى إِبْرَاهِم وَ اِسْعِيلَ وَ اسحق وَيَعْقُوبَ وَالْأَسْبَاطِ وَمَا أُوتِيَ مُوسى وَعِيسَى وَمَا أُوتِيَ النَّبِيُّونَ مِنْ رَّبِّهِمْ لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِنْهُمْ وَنَحْنُ لَهُ مُسْلِمُونَ - ترجمہ۔ان کو سنا دو کہ ہم اللہ کو مان چکے اور جو کلام ہم پر اُترا ہے اُسے مان چکے اور جو ابراہیم اور اسمعیل اور اسحق اور یعقوب اور اُن کی پاکباز اولاد پر نازل ہوتا رہا (اس پر بھی ہم نے یقین کر لیا ہے ) لے ہمیں وہ پاس والی سیدھی راہ چلا۔( ناشر )