حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 370 of 680

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 370

حقائق الفرقان ۳۷۰ سُورَة البَقَرَة ۱۳۴ - ام كُنتُم شُهَدَاءَ إِذْ حَضَرَ يَعْقُوبَ الْمَوْتُ إِذْ قَالَ لِبَنِيهِ مَا تَعْبُدُونَ مِنْ بَعْدِى قَالُوا نَعْبُدُ الهَكَ وَإِلَهَ أَبَا بِكَ إِبْرَاهِم وَاسْمَعِيلَ وَ اسحق الهَا وَاحِدًا وَنَحْنُ لَهُ مُسْلِمُونَ - ترجمہ۔کیا تم اُس وقت موجود تھے جب یعقوب کی موت قریب آ پہنچی جس وقت اُس نے اپنے بیٹوں سے پوچھا کہ میرے مرے بعد تم کس کی عبادت کرو گے؟ انہوں نے جواب دیا ہم تیرے معبود اور تیرے باپ دادا ابراہیم اور اسماعیل اور احق کے معبود کی جو ایک ہی اکیلا اللہ ہے ، عبادت کریں گے اور ہم اُسی کے مسلمان بندے بنے رہیں گے۔تفسیر۔کیا تم حاضر تھے جس وقت پہنچی یعقوب کو موت ؟ جب کہا اپنے بیٹوں کو تم کیا پوجو گے میرے پیچھے؟ بولے ہم عبادت کریں گے تیرے اور تیرے باپ دادوں کے رب کی۔ابراہیم اور اسمعیل اور الحق۔وہی ایک رب اور ہم اسی کے حکم پر ہیں۔( فصل الخطاب لمقد مہ اہل الکتاب حصہ اول صفحہ ۴ حاشیہ ) ام كُنتُم شُهَدَاء - الآية تم تو موجود تھے تمہارے اسلاف گواہی دیتے ہیں کہ یعقوب نے آخر وقت کیا ارشاد کیا ؟ کس کی اطاعت کرو گے؟ انہوں نے کہا نَعْبُدُ الهَكَ ہم اللہ کے فرمانبردار ہوں گے جو تمہارا اور اسحق اور ابراہیم کا معبود تھا اور وہ ایک ہی تھا۔وَنَحْنُ لَهُ مُسْلِمُونَ ہم ہمیشہ اسی کے فرمانبردار رہیں گے۔پس یہ حق وصیت کا ہے اور تمام وعظوں کا عطر اور اصل مقصد یہی ہے جو تمہارے سامنے پیش کیا ہے اور یہ وصیت ہے اس شخص کی جو ابوالا نبیاء اور ابوالحنفاء ہے اور اسی کی وصیت کو میں نے تمہارے سامنے پیش کیا ہے پس تم اپنے کھانے پینے ، لباس، دوستی ،محبت ، رنج ، راحت، عُسر ، ٹیسر ، افلاس، دولتمندی ، صحت اور مرض ، مقدمات و صلح میں اس اصول کو مد نظر رکھو کہ اللہ کی فرمانبرداری سے کوئی قدم باہر نہ ہو۔پس یہ وصیت تمام وصیتوں کی ماں ہے اللہ تعالیٰ تمہیں تو فیق دے کہ ہر حال میں تمہیں اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری مد نظر ہو اور یہ ہو نہیں سکتی جب اللہ تعالیٰ سے بغاوت ہو اور یہ بھی بغاوت ہے کہ اللہ تعالیٰ ایک کو بڑا بناتا ہے اور اس کو برگزیدہ کرتا ہے مگر یہ اس کی مخالفت کرتا اور اس سے انکار کرتا ہے۔برہموؤں نے اسی قسم کا دعویٰ کیا ہے جو وہ رسالت اور نبوت کے منکر ہیں۔یہ بغاوت ہے۔اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ وہ مطاع ہو اور وہ گو یا ارادہ الہی کا دشمن اور باغی ہے۔