حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 28 of 680

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 28

حقائق الفرقان ۲۸ سُوْرَةُ الْفَاتِحَة شامل کر لے۔ ہدایت عموماً چار ذرائع سے ہے ۔ ا۔ قوت دینا۔ فطری قوی بخشا۔ ۲۔ ایک نیکی کے بعد دوسری نیکی کی توفیق دینا ۔ ۳۔ اس مقصد پر پہنچانا جو نیکی کے واسطے مقدر ہو ۔ ۴۔ راستہ بتلا دینا۔ مُسْتَقِيمَ - اقرب راہ ۔ جو سب سے زیادہ نزدیک ہو ۔ ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۱۵ مورخه ۴ فروری ۱۹۰۹ صفحه ۲) ۸ نمبر ۱۵ مورخه ۴ رفروری ۱۹۰۹ صفحه ۲) ا۔ ہدایت قومی فطری کا عطا کرنا ۔ اعطی محل شَيْءٍ خَلْقَهُ ثُمَّ هَدَى (طه: ۵۰ ) - عطاء فہم (۳) انبیاء کی تعلیم سے بڑے بھلے راہوں کو دکھانا ۔ وَ هَدَيْنَهُ النَّجْدَيْنِ (البلد :) ۔ - ۳ ۴۔ بہشت میں پہنچانا۔ چنانچہ جنتی کہیں گے کولا أَنْ هَدْنَا اللهُ (الاعراف: ۴۴) ۔ تشحیذ الا ذہان جلد ۸ نمبر ۹ - ستمبر ۱۹۱۳ ء صفحه ۴۳۵) اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ ۔ اِس کا یہ مطلب ہے کہ کوئی کام اِس دنیا میں بدوں کسی سبب کے نہیں ہوتا ۔ ظاہری اندھیرے کے لئے سورج ، چاند ، چراغ ، برق وغیرہ کی روشنی چاہیے ، سینے کو ہوائے سرما کے واسطے گرم کپڑا الگ چاہیے ۔ دوسرے دوست کے مطالب سمجھنے کو خط و کتابت، پیغام چاہیے۔ دریا سے پار اترنے کو کشتی چاہیے شنائی حملہ وغیرہ چاہیے۔ پیاس کے دور کرنے کو پانی ۔ ٹھوک کے لئے غذا۔ جلد پہنچنے کو ریل ۔ جلد خط بھیجنے کو تار کی خبر ۔ اسی طرح دیکھتے جاؤ کوئی کام بڑوں سبب نہیں جن کاموں کو آپ بدوں سبب جانتے ہو وہ بھی حقیقت میں سبب کے ساتھ پیوستہ ہیں ۔ اهْدِنَا الصِّرَاطَ سے یہ مطلب ہے کہ الہی کوئی کام بڑوں سبب واقعی نہیں ہوا کرتا اور ہم کو کاموں کے اسباب ٹھیک ٹھیک معلوم نہیں اس لئے ہمارے کام نہیں ہوتے ۔ اگر بیماری کی صحت کا ٹھیک سبب معلوم ہو تو ہمارے بیمار کیوں بیمار رہیں؟ اور اگر دفع افلاس کے واقعی اسباب معلوم ا جس نے ہر ایک شے کو عطا فرمائی اس کی اصلی صورت ، پھر اس کی ضرورت کے رستے بنا دیئے۔ ۲۔ اور اس کو دوراستے نہیں بتلا دیئے (نیکی اور بدی کے ) ۔ سے اگر اللہ ہم کو یہاں نہ پہنچاتا۔ ( ناشر )