حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 369 of 680

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 369

حقائق الفرقان ۳۶۹ سُوْرَةُ الْبَقَرَة ایسالباس ہو، ایسا بستر ا ہو، ایسے ایسے عیش و عشرت کے سامان موجود ہوں ، اِس اِس طرح کے خوشکن اسباب میتر آ جاویں تو اس کی موت مسلمان کی موت نہیں ہوسکتی۔مومن اور مسلمان انسان کی تو ایسی حالت ہو جانی چاہیے کہ مرتے وقت کوئی غم اور اندیشہ نہ ہو۔اسی واسطے فرمایا لا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُم مُّسْلِمُونَ یعنی فرمانبردار ہو کر مریو۔کس کو خبر ہے کہ موت کے وقت اس کی ہوش بھی قائم ہوگی یا نہیں۔کئی مرنے کے وقت خراٹے لیتے ہیں۔دہی بلونے کی طرح آواز نکالتے ہیں اور طرح طرح کی سانس لیتے ہیں۔کئی کتے کی طرح ہاہا کرتے ہیں۔جب یہ حال ہے اور دوسری طرف خدا بھی کہتا ہے کہ مسلمان ہو کر مریو۔ایسے ہی رسول نے بھی کہا۔تو یہ کس کے اختیار میں ہے کہ ایسی موت مرے جو مسلمان کی موت ہو گھبراہٹ کی موت نہ ہو؟ اس کا ایک ستر ہے کہ جب انسان سکھ میں اور عیش وعشرت اور ہر طرح کے آرام میں ہوتا ہے۔سب قوای اس میں موجود ہوتے ہیں کوئی مصیبت نہیں ہوتی۔اس وقت استطاعت اور مقدرت ہوتی ہے جو خدا کے حکم کی نافرمانی کر کے حظ نفس کو پورا کرے اور کچھ دیر کے لئے اپنے نفس کو آرام دے لے۔پر اگر اس وقت خدا کے خوف سے بدی سے بچ جاوے اور اس کے احکام کو نگاہ رکھے تو اللہ ایسے شخص کو وہ موت دیتا ہے جو مسلمان کی موت ہوتی ہے۔اگر وہ اس وقت مرے گا جبکہ مَنْ تَقُلَتْ مَوَازِينه (القارعة :) یعنی جب اس کی تراز و زور والی ہوگی تو وہ بامراد ہوگا اور مسلمان کی موت مرے گا ورنہ ہم نے دیکھا ہے کہ مرتے وقت عورتیں پوچھتی ہی رہتی ہیں کہ میں کون ہوں؟ دوسری کہتی ہے دس خاں میں کون ہوں؟ تیسری پوچھتی ہے دسو خاں جی میں کون ہاں؟ اور اسی میں ان کی جان نکل جاتی ہے۔الحکم جلد نمبر ۳۱ مؤرخه ۳۱/اگست ۱۹۰۷ ء صفحه ۱۱) ابراہیم نے اپنی اولاد کی بہتری چاہی تو اس کے لئے ایک وصیت کی يُبَنِی إِنَّ اللهَ اصْطَفَى لَكُمُ الدِّينَ فَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَ اَنْتُم مُّسْلِمُونَ۔اے میرے بچو! اللہ نے تمہارے لئے ایک دین پسند فرما یا پس تم فرمانبرداری کی حالت میں مرو۔کئی لوگ ایسے ہیں جو گناہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ پھر تو بہ کرلیں گے مگر یہ غلطی ہے کیونکہ عمر کا کچھ بھروسہ نہیں۔البدر جلد ۸ نمبر ۲۴، ۲۵ مؤرخه ۸ و ۱۵ را پریل ۱۹۰۹ء صفحه ۲)