حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 367 of 680

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 367

حقائق الفرقان ۳۶۷ سُورَة البَقَرَة سے اپنا معاملہ صاف کرے اگر تعلقات صحیحہ نہ ہوں تو تو بہ کے دروازے بند ہو جاتے ہیں۔الحکم جلد نمبر ۲ مؤرخہ ۱۷؍جنوری ۱۹۰۳، صفحه ۱۲، ۱۳) میرے ایک شیخ تھے وہ فرمایا کرتے تھے کہ غَايَةُ الْعِلْمِ حَيْرَةٌ غرض وہ بات جو خدا تعالیٰ کو پسند ہے جس سے وہ راضی ہوتا اور اپنے فضلوں سے انسان کو بہرہ مند کرتا ہے وہ نہ بہت باتوں سے مل سکتی نہ بہت کتابوں کے پڑھنے سے بلکہ وہ بات تعلق رکھتی ہے دل سے۔وہ اس کی ایک کیفیت ہے جس کو عام الفاظ میں وفاداری، اخلاص اور صدق کہہ سکتے ہیں اور یہ کیفیت پیدا ہوتی ہے ماموروں کی اطاعت سے اور سچی پیروی سے۔۔۔ابراہیم علیہ الصلوۃ و السلام جس کی نسل سے ہونے کا آج سب سلطنتیں فخر کرتی ہیں اس نے اس راہ کو اختیار کیا۔اس نے صدقِ دل سے اَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعَلَمِينَ کہا اور اسی ایک امر کی اولاد کو وصیت کی۔نتیجہ کیا ہو ا خدا تعالیٰ نے اسے ایسا معزز و مکرم بنایا کہ اس کی اولاد کی گنتی تک نہیں ہو سکتی۔وہ بادشاہ جو اس کے مقابلہ میں اُٹھا آج کوئی اس کا نام تک بھی نہیں جانتا۔یقیناً سمجھو کہ اللہ تعالیٰ کسی کا احسان اپنے ذمہ نہیں رکھتا وہ اس سے ہزاروں لاکھوں گنا زیادہ دے دیتا ہے جس قدر کوئی خدا کے لئے دیتا ہے۔دیکھو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مکہ میں ایک معمولی کوٹھا چھوڑا ہوگا لیکن خدا تعالیٰ نے اس کی کس قدر قدر کی۔اس کے بدلہ میں اسے ایک سلطنت کا مالک بنا دیا۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ ایک اونٹ چرانے والے کو کس وسیع مملکت کا خلیفہ بنا دیا۔جناب علی نے خدمت کی اس کی اولا د تک کو مخدوم بنا دیا۔غرض میں دیکھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے حضور صدق و اخلاص سے چھوٹی سے چھوٹی خدمت بھی ہزاروں گنا بدلہ پاتی ہے۔وہ تھوڑی سی بات کا بہت بڑا اجر دے دیتا ہے پھر جواس کے ساتھ سچا رشتہ عبودیت قائم کرتا ہے۔اس کے عظمت وجلال سے ڈر جا تا ہے۔دین کو دنیا پر مقدم کرتا ہے جیسا کہ تم نے اپنے مرشد و مولی مہدی ومسیح کے ہاتھ پر اقرار کیا ہے تو خدا تعالیٰ اس کی تائید اور نصرت میں ایسا لگ جاتا ہے کہ اے علم کی انتہا حیرت ہے۔(ناشر)