حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 366
حقائق الفرقان ۳۶۶ سُورَةُ الْبَقَرَة لا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ ۔ موت اختیار میں نہیں ۔ موت سے پہلے بے ہوشی ہو جاتی ہے۔ ایسی ایسی حالتوں میں موت آتی ہے کہ اس سے پہلے ایک منٹ اپنے انجام کی خبر نہیں ہوتی ۔ پھر انسان پر کئی قسم کی حالتیں آتی ہیں باوجود اس کے ارشاد ہے اِلَّا وَ انْتُمْ مُسْلِمُونَ ۔ اس میں نکتہ یہ ہے کہ انسان موجودہ حالت میں ترقی کرے اور آئندہ بھی نیکی کا ارادہ رکھے۔ جو لوگ کہتے ہیں کہ بدی کر کے تو بہ کر لیں گے یا آئندہ من جائیں گے وہ غلطی کرتے ہیں۔ (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۲۱ مورخه ۱۸ مارچ ۱۹۰۹ء صفحه ۲۱) ابراہیم کا پوتا یعقوب اپنی اولاد کو مخاطب کر کے کہتا ہے یبَنِي إِنَّ اللَّهَ اصْطَفى - الآية ال میری اولاد اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے ایک دین برگزیدہ کیا ہے فَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَ انْتُمْ مُسْلِمُونَ پس تم کو تاکید کرتا ہوں کہ تمہاری موت نہ آوے مگر ایسے رنگ میں کہ تم مسلمان ہو اللہ تعالیٰ کے فرمانبردار بندے ہو۔ انسان کو موت کا وقت معلوم نہیں اور پتہ نہیں اس وقت حواس درست ہوں یا نہ ہوں اور پھر یہ امر اختیاری نہیں اس لئے یہ عقدہ کس طرح حل ہو؟ ایک صحیح حدیث نے اس مسئلہ میں میری راہنمائی کی ہے اور اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان جب عمل کرتا ہے تو فرشتے اس کے اعمال کو لکھتے جاتے ہیں سعادت کے اعمال بھی اور شقاوت کے اعمال بھی ۔ اور موت کے قریب ان کی میزان کی جاتی ہے اور پھر وہ مقادیر الہیہ سبقت کرتی ہیں۔ اگر وہ لوگوں کی نظر میں نیک تھا پر اللہ سے معاملہ صاف نہیں یا اللہ سے معاملہ صاف ہے مگر لوگوں کی نگاہ میں نہیں تو وہ کتاب باعث ہوتی ہے کہ اس کا خاتمہ اللہ کی رضا یا سخط پر جیسی صورت ہو، ہو۔ پس ہر روز اپنے اعمال کا محاسبہ چاہیئے ۔ ایک صحابی نے ہماری سرکار صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تھا کہ جاہلیت میں میں نے کچھ صدقات کئے تھے کیا وہ بابرکات ہوں گے؟ ارشاد ہوا کہ أَسْلَمْتَ عَلى مَا اسْلَفت یہ اسلام ان ہی کی برکت سے تجھے نصیب ہوا ہے۔ موت علی الاسلام اس طرح نصیب ہو سکتی ہے کہ انسان ہر روز محاسبہ کرتا رہے اور اللہ تعالیٰ لے تو نے ماضی میں جو نیک اعمال کیسے ہیں ۔ انہی کی بدولت تو نے اسلام قبول کیا۔ (ناشر)