حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 361 of 680

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 361

حقائق الفرقان ۳۶۱ سُورَة البَقَرَة شخص نے ان کے سامنے دنیا کی بہت سی مذمت کی۔آپ نے توجہ نہ فرمائی لیکن جب دوسرے دن پھر تیسرے دن بھی یونہی کہا تو آپ نے فرمایا اس کو ہماری مجلس سے نکال دو کیونکہ یہ مجھے کوئی بڑا دنیا پرست معلوم ہوتا ہے جبھی تو اس کا بار بار ذکر کرتا ہے۔پس ایک وسطی راہ اختیار کرنا جس میں افراط و تفریط نہ ہوا براہیمی ملت ہے مومن کو یہی راہ اختیار کرنی چاہیے اور میں خدا کی قسم کھا کر شہادت دیتا ہوں کہ ابراہیم کی چال اختیار کرنے سے نہ تو غریب الوطنی ستاتی ہے نہ کوئی اور حاجت۔نہ انسان دنیا میں ذلیل ہوتا ہے نہ آخرت میں۔چنانچہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔وَلَقَدِ اصْطَفَيْنَهُ فِي الدُّنْيَا وَإِنَّهُ فِي الْآخِرَةِ لَمِنَ الصَّلِحِينَ وہ دنیا میں بھی برگزیدہ لوگوں سے تھا اور آخرت میں بھی۔بعض لوگوں کا خیال ہے کہ دنیا میں خواہ کیسی ذلت ہو آخرت میں عزت ہو اور بعض آخرت میں کسی عزت کے طالب نہیں یا تھوڑی چیز پر اپنا خوش ہو جانا بیان کرتے ہیں چنانچہ ایک دفعہ میں نے ایک کتاب میں پڑھا کہ کوئی بزرگ لکھتے ہیں کہ ہمیں تو بہشت میں پھونس کا مکان کافی ہے اور دنیا کے متعلق لکھا ہے کہ یہاں کفار کوٹھیوں میں رہتے ہیں مسلمانوں کے لئے کچے مکانوں میں رہنا اسلامیوں کی ہتک ہے۔اب میں پوچھتا ہوں کہ جب اس دنیا میں وہ اپنی ہتک پسند نہیں کرتا تو اس عالم میں اپنا ذلیل حالت میں رہنا اسے کس طرح پسند ہے؟ یہ خیال ابراہیمی چال کے خلاف ہے! ابراہیم نے جن باتوں سے یہ انعام پایا کہ دنیا و آخرت میں برگزیدہ اور اعلیٰ درجہ کا معزز انسان ہوا وہ بہت لمبی ہیں مگر اللہ تعالیٰ نے ایک ہی لفظ میں سب کو بیان فرما دیا کہ اِذْ قَالَ لَهُ رَبُّةٌ أَسْلِمُ قَالَ أَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعَلَمِینَ پھر انسان کو اپنی بہتری کے ساتھ اپنی اولاد کا بھی فکر ہوتا ہے مسلمانوں میں کئی قسم کے لوگ گزرے ہیں بعض کو اپنی اولاد کا اتنا فکر ہوتا ہے کہ دن رات ان کے فکر میں مرتے ہیں اور بعض ایسے کہ اولاد کے متعلق اللہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھتے ہیں۔البدر جلد ۸ نمبر ۲۵،۲۴ مورخه ۸ و ۱۵ ۱۷ پریل ۱۹۰۹ صفحه ۲) اسلام کی حقیقت یہی ہے کہ انسان اپنی ساری قوتوں اور طاقتوں کو اللہ تعالیٰ کے سپرد کر دے اور