حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 360
حقائق الفرقان ۳۶۰ سُورَة البَقَرَة جو قربانی کرتا ہے اللہ اس پر خاص فضل کرتا ہے۔اللہ اس کا ولی بن جاتا ہے پھر اسے محبت کا مظہر بنا تا ہے۔پھر اللہ انہیں عبودیت بخشتا ہے۔یہ وہ مقام ہے جس میں لامحدود ترقیاں ہوسکتی ہیں چنانچہ حضرت ابراہیم کو بھی کہا گیا اسلم تو انہوں نے فوراً کہا أَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعَلَمِینَ۔خیر جب یہ عبودیت کا تعلق مستحکم ہو جاتا ہے تو پھر اس میں عصمت پیدا ہوتی ہے اور خدا اسے تبلیغ کا موقعہ دیتا ہے پھر اس کو ایک قسم کی دھت ہو جاتی ہے خواہ کوئی مانے یا نہ مانے۔اس میں ایک ہمدردی پیدا ہوتی ہے اور وہ قول موجہ سے لوگوں کو امر بالمعروف کرتا ہے پھر وقت آتا ہے جب حکم ہوتا ہے کہ لوگوں سے یوں کہو۔جوں جوں ترقی کرتا جاتا ہے خدا کا فضل اور درجات بڑھتے جاتے ہیں۔البدر جلد ۸ نمبر ۱۳ مورخه ۲۱ جنوری ۱۹۰۹ ء صفحه ۸) رشک (غبطة) تمام انسانی ترقیات کی جڑ ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر رشک کرنا ہے تو ابراہیم سے کرو۔دیکھو اس نے اپنے اخلاص و وفا کے ذریعے کیسے کیسے اعلیٰ مدارج پائے۔ابراہیم کی ملت سے کون بے رغبت ہو سکتا ہے مگر وہی جس کی دینی دنیوی عقل کم ہو۔اس کی ملت کیا تھی ؟ بس حنیف ہونا۔حنیف کہتے ہیں ہر امر میں وسطی راہ اختیار کرنے والے کو۔عربی زبان میں جس کی ٹانگیں ٹیڑھی ہوں اُسے احنف کہتے ہیں۔اس واسطے حنیف کے معنے میں بعض لوگوں کو دھوکا ہوا ہے حالانکہ ایسے شخص کو احنف بطور دعا وفال نیک کہتے ہیں۔ہمارے ملک میں ہر چہ گیر علتی علت شودل کے مریض سیدھے کے معنے بھی اُلٹے ہی لیتے ہیں۔جس آدمی کو سیدھا کہا جاوے گویا اس کے یہ معنے ہیں کہ تم بڑے بیوقوف ہو۔ابراہیم کی راہ یہ ہے کہ افراط تفریط سے بچے رہنا۔کسی کی طرف بالکل ہی نہ جھکنا بلکہ دین و دنیا دونوں کو اپنے اپنے درجے کے مطابق رکھنا چنانچہ رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وقِنَا عَذَابَ النَّارِ " (البقرۃ:۲۰۲) ایک ہی دعا ہے۔رابعہ بصری ایک عورت گزری ہے ایک دن کسی ا جو بھی اس پر مشکل یا بیماری آتی ہے وہ اس کو آگے بڑھانے کا ذریعہ بن جاتی ہے۔کہ اے ہمارے صاحب! تو ہمیں دنیا میں بھی خیر و برکت دے اور آخرت میں بھی بھلائی دے اور ہم کو آگ کے عذاب سے بچا۔(ناشر)