حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 359
حقائق الفرقان ۳۵۹ سُورَة البَقَرَة جو ابراہیم کا دین یعنی ہر طرح اپنے آپ کو خدا کے سپرد کرنا اختیار نہیں کرتے غلطی کرتے ہیں اور اس لئے اللہ تعالیٰ ان کو سفیہ قرار دیتا ہے۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے اسے دنیا میں بھی برگزیدہ کیا۔پس وہ لوگ جو کہ دنیا میں ترقی کرنا چاہتے ہیں وہ غور کریں کہ خدا کی فرمانبرداری سے وہ ابراہیمی مراتب حاصل کر سکتے ہیں۔ہر ایک قسم کی عزت ابراہیم علیہ السلام کو حاصل ہے اور یہ سب کچھ اسکمت کا نتیجہ ہے۔یہ ایک خطر ناک مرض ہے کہ بعض لوگ مامورین کے انذار اور عدم انذار کی پرواہ نہیں کرتے۔اُن کو اپنے علم پر ناز اور تکبر ہوتا ہے اور کہتے ہیں کہ کتاب البی ہمارے پاس بھی موجود ہے۔ہم کو بھی نیکی بدی کا علم ہے۔یہ کونسی نئی بات بتانے آیا ہے کہ ہم اس پر ایمان لاویں۔ان کم بختوں کو یہ خیال نہیں آتا کہ یہود کے پاس بھی تو تو رات موجود تھی۔اس پر وہ عمل درآمد بھی رکھتے تھے۔پھر ان میں بڑے بڑے عالم، زاہد اور عابد موجود تھے۔پھر وہ کیوں مردود ہو گئے؟ اس کا باعث یہی تھا کہ تکبر کرتے تھے۔اپنے علم پر نازاں تھے اور وہ اطاعت جو کہ خدا تعالی اسلم کے لفظ سے چاہتا ہے ان میں نہ تھی۔ابراہیم کی طرز اطاعت ترک کر دی۔یہی بات تھی کہ جس نے ان کو مسیح علیہ السّلام اور اس رحمۃ للعالمین نبی کریم صلعم کے ماننے سے جس سے تو حید کا چشمہ جاری ہے ماننے سے باز رکھا۔الحکم جلد 9 نمبر۷ مؤرخہ ۲۴ فروری ۱۹۰۵ء صفحہ ۷) مسلمان بنو۔اسلم کی آواز پر اسکمت کا جواب عمل سے دو۔دوست احباب رشتہ داروں اور عزیزوں کو نصیحت کرو کہ اسلام اپنے عمل سے دکھاؤ تمہیں خدا تعالیٰ نے بہت عمدہ موقع دیا ہے کہ ایک شخص خدا تعالیٰ کی طرف سے اپنے وقت پر آیا ہے جور استبازوں کا پورانمونہ ہے اور تم میں موجود ہے وہ تم سے بھی چاہتا ہے کہ تم دین کو دنیا پر مقدم کرو۔اس پر عمل کرو گے تو نا کام نہ رہو گے۔مومن کبھی ناشاد نہیں رہ سکتا بلکہ سرا ہی بہشت میں رہتا ہے۔اس کو دو بہشت ملتے ہیں دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔الحکم جلد ۹ نمبر ۱۷ مؤرخہ ۱۷ رمئی ۱۹۰۵ء صفحه ۶)