حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 358 of 680

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 358

حقائق الفرقان ۳۵۸ سُورَة البَقَرَة اسلام کسی دعوئی کا نام نہیں بلکہ اسلام یہ ہے کہ اپنی اصلاح کر کے سچا نمونہ ہو صلح و آشتی سے کام لے۔فرمانبردار ہو۔سارے اعضاء قلب، زبان، جوارح، اعمال و اموال انقیاد الہی میں لگ جائیں۔منہ سے مسلمان کہلا لینا آسان ہے۔شرک ، حرص، طمع اور جھوٹ سے گریز نہیں۔زنا، چوری، غفلت اور کینہ پروری ، ایذاء رسانی سے دریغ نہیں۔پھر کہتا ہے میں فرمانبردار ہوں۔یہ دعویٰ غلط ہے۔کیسا عجیب زمانہ تھا جب یہ دعوے کہ تمحن له مُخلِصُونَ نَحْنُ لَهُ عَابِدُونَ عَلَى رَؤُوسِ الْأَشْهَادِ کئے جاتے تھے۔ایسے پاک مدعیوں کی طرح مومن بننا چاہیے جن کی تصدیق میں خدا نے بھی فرمایا کہ ہاں سچ کہتے ہیں کہ ہم اللہ کے مخلص عابد ہیں۔مومن کو اسلم کہنے کے ساتھ ہی اسکیت کہنے کے لئے تیار رہنا چاہیے۔یہی نکتہ معرفت کا ہے جو ہمیشہ یادرکھنا چاہیے اور اس کے نہ سمجھنے کی وجہ فَرِحُوا بِمَا عِنْدَهُم مِّنَ الْعِلْمِ (المؤمن: ۸۴) کے مصداق ہو جاتے ہیں۔۔میں پھر کہتا ہوں کہ ملت ابراہیم بڑی عجیب راحت بخش چیز ہے۔وہ ملت وہ سیرت کیا ہے؟ اسلم فرمانبردار ہوکر چلو قَالَ أَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعلمين۔پھر اس ملت اور سیرت کو چونکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے شفا بخش رحمت اور نور پایا تھا اس لئے نہ صرف اپنے ہی لئے اس کو پسند کیا بلکہ وظى بِهَا إِبْراهِم - الآية اسی سیرت اور ملت کی ابراہیم نے اپنی اولا دکو وصیت کی۔الحکم جلد نمبر ۲ مؤرخہ ۱۷؍جنوری ۱۹۰۳ ء صفحه ۱۲،۱۱) حضرت ابراہیم علیہ السلام کے عمل درآمد اور ان کی تعلیم کا خلاصہ قرآن شریف نے ان آیات میں بیان فرمایا ہے کہ جیسا اس کے رب نے اُسے کہا اسلم تو فرمانبردار ہو جا تو ابراہیم نے کوئی سوال کسی قسم کا نہیں کیا اور نہ کوئی کیفیت دریافت کی کہ میں کس امر میں فرماں برداری اختیار کروں بلکہ ہر ایک امر کے لئے خواہ وہ کسی رنگ میں دیا جاوے اپنی گردن کو آگے رکھ دیا اور جواب میں کہا اسلمت لرب العلمین کہتے ہیں میں تو رب العلمین کا تابعدار ہو چکا۔ابراہیم علیہ السلام کی یہی فرمانبرداری اپنے رب کے لئے تھی جس نے اسے خدا کی نظروں میں برگزیدہ بنادیا۔وہ لوگ لے اور ہم تو سب سے بڑھ کر اسی کو دل سے چاہنے والے ہیں۔۲؎ اور ہم تو اسی اکیلے اللہ کی عبادت کرنے والے ہیں۔۳۔یہ لوگ خوش ہوئے اس پر جو ان کے پاس علم تھا۔(ناشر)