حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 357
حقائق الفرقان ۳۵۷ سُورَة البَقَرَة نا امید اور مایوس ہو کر مخلوق کے دروازہ پر گرتا ہے اس وقت اللہ تعالیٰ سے ایسا بے گانہ اور نا آشنا ہوتا ہے کہ ہر قسم کے فریب و دغا سے کام لینا چاہتا ہے اگر کبھی کامیاب ہو جائے تو اس کو اللہ تعالی کے فضل و رحمت کے ذکر اور اس کی حمد و ستائش کا موقع نہیں ملتا بلکہ وہ اپنی کرتوتوں اور فریب و دغا اور چالبازیوں کی تعریف کرتا اور شیخی اور تکبر میں ترقی کرتا اور اپنی حیل و تجاویز پر عجب و ناز کرتا ہے۔اگر نا کام ہوتا ہے تو رضا بالقضاء کے بدلے اس کی مقادیر کوکوستا اور بری نگاہ سے دیکھتا اور اپنے رب کا شکوہ کرتا ہے۔غرض یہ حاجتیں تو سب کو ہیں اور انبیاء اولیاء وصد یقوں اور تمام منعم علیہ گروہ کے لئے بھی مقدر ہوتی ہیں مگر سعید الفطرت کے لئے وہ تقرب الی اللہ کا باعث ہو جاتیں اور اس کو مزید انعامات کا وارث بنادیتی ہیں اور شقی مضطرب ہو کر قلق کرتا ہے اور نا کام ہو کر سخط علی اللہ کر بیٹھتا ہے کامیابی پر وہ مبتلا فی الشرک ہو جاتے ہیں اور نا کامی پر مایوس۔مشکلات اور حوائج کیوں آتے ہیں؟ ان میں بار یک در بار یک مصالح الہیہ ہوتے ہیں کیونکہ مشکلات میں وسائط کا مہیا کرنا تو ضروری ہوتا ہے۔اس سے پتہ لگ سکتا ہے کہ مَنْ يَشْفَعْ شَفَاعَةً حَسَنَةٌ ( النساء:۸۲) کا ثواب لینا بھی کیسی نعمت الہی ہے اور پھر ان میں حکمت ہوتی ہے کہ ان خدمات کے ثمرات مساعی جمیلہ ان کی فکر اور محنت پر اللہ تعالیٰ کو انعام دینا منظور ہوتا ہے اور اس طرح پر نہ سننِ الہی باطل ہوتے ہیں اور نہ سلسلہ علم ظاہری کا باطل ہوتا ہے۔غرض سچا اور پکا مومن وہ ہوتا ہے جیسا کہ حضرت امام نے شرائط بیعت میں لکھا ہے کہ رنج میں، راحت میں، سر میں، کیسر میں قدم آگے بڑھا وے اس کا مطلب یہ ہے کہ جب ان امور کا پیش آنا ضروری ہے تو ہر ایک حالت میں فرمانبردار انسان کو چاہیے کہ ترقی کرتار ہے اور دعاؤں کی طرف توجہ کرے تا کامیابی کی راہیں اسے مل جائیں اور یہ ساری باتیں ابراہیمی ملت کے اختیار کرنے سے پیدا ہوتی ہیں۔ابرا ہیمی ملت کیا ہے؟ یہی کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو کہا اسلم تو فرمان بردار ہو جا۔انہوں نے کچھ نہیں پوچھا یہی کہا أَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعَلَمِينَ۔ا جو کوئی بھلائی کی سفارش کرے۔(ناشر)