حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 355 of 680

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 355

حقائق الفرقان ۳۵۵ سُورَة البَقَرَة سے تھے اور حضرت اسمعیل اور ہمارے سید و مولی بادی کامل صلی اللہ علیہ وسلم اسی کی اولاد سے ہیں۔ایک اور جگہ یہ بھی اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ابراہیم اور اس کی اولا دکو بہت بڑا ملک دیا مگر غور طلب امر یہ ہے کہ جڑ اس بات کی کیا ہے؟ کیا معنی؟ وہ کیا بات ہے جس سے وہ انسان اللہ تعالیٰ کے حضور برگزیدہ ہوا اور معزز ٹھہرایا گیا۔قرآن کریم میں اِس بات کا ذکر ہوتا ہے جہاں فرمایا ہے اذْ قَالَ لَهُ رَبُّكَ أَسْلِمُ قَالَ أَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعَلَمِينَ جب ابراہیم کے رب نے اس کو حکم دیا کہ تو فرمان بردار بن جا تو حضرت ابراہیم عرض کرتے ہیں میں رب العلمین کا فرمان بردار ہو چکا۔کوئی حکم نہیں پوچھا کہ کس کا حکم فرماتے ہو۔کسی قسم کا تامل نہیں کیا۔فرمانبرداری کے حکم کے ساتھ ہی معابول اُٹھے کہ فرمانبردار ہو گیا۔ذرا بھی مضائقہ نہیں کیا اور نہیں خیال کیا کہ عزت پر یا مال پر صدمہ اُٹھانا پڑے گا یا احباب کی تکالیف دیکھنی پڑیں گی۔کچھ بھی نہ پوچھا۔فرمان برداری کے حکم کے ساتھ اقرار کر لیا کہ اسلمتُ لِرَبِّ العلمین۔یہ ہے وہ اصل جو انسان کو خدا تعالیٰ کے حضور برگزیدہ اور معزز بنا دیتی ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کا سچا فرماں بردار ہو جاوے۔فرمان برداری کا معیار کیا ہے؟ ایک طرف انسان کے نفسانی جذبات کچھ چاہتے ہیں اور خدا تعالیٰ کے احکام کچھ اور۔اب دیکھیں کہ آیا خدا تعالیٰ کے احکام کو انسان مقدم کرتا ہے یا اپنے نفسانی اغراض کو۔اسی طرح رسم و رواج، عادات کسی کا دباؤ ، حب جاہ و رعایت قانون قومی ایک طرف کھینچتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کا حکم ایک طرف۔اس وقت دیکھنا چاہیے کہ خدا تعالیٰ کے حکم کی طرف جھکتا ہے یا اس پر دوسرے امور کو ترجیح دیتا ہے۔اب اگر اللہ تعالیٰ کے احکام کی قدر کرتا اور اُن کو مقدم کر لیتا ہے تو یہی خدا کی فرمانبرداری ہے۔۔۔حضرت ابراہیم علیہ السّلام نے خود بھی خدا تعالیٰ کی اطاعت کی اور انہی باتوں کی وصیت اپنی اولا د کو بھی کی اور یعقوب نے بھی یہی وصیت کی کہ اے میری اولاد اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے ایک عجیب دین کو پسند کیا ہے اور وہ یہ ہے کہ ہر وقت فرمانبرداری میں گزارو۔چونکہ موت کا کوئی وقت معلوم نہیں ہے اسی لئے ہر وقت فرمان بردار ہوتا کہ ایسی حالت میں موت آوے کہ تم فرمانبردار ہو۔میری