حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 353 of 680

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 353

حقائق الفرقان ۳۵۳ سُورَة البَقَرَة تفسیر۔دنیا کے لوگ عزت چاہتے ہیں۔اولاد چاہتے ہیں۔کامیابی چاہتے ہیں۔ذکر خیر چاہتے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے ان تمام نعمتوں سے ابراہیم کو تمتع کیا۔ان کی اولاد دیکھو کہ کوئی حساب نہیں۔عظمت کا یہ حال ہے کہ مسلمان، یہودی ، صابی ، پارسی، عیسائی باوجود بہت سے اختلاف کے ان کو یکساں معزز و مکرم مانتے ہیں افسوس کہ بعض لوگوں نے باوجود صديقًا نَبِيًّا نص صریح کے بعض روایات کی بنا پر انہیں جھوٹ بولنے کا الزام دیا ہے۔تو رات میں ہے کہ جو تیری بے ادبی کرے گا میں اسے ذلیل کروں گا۔جو تیرے لئے برکت مانگے گا میں اسے برکت دوں گا اسی لئے اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّد پڑھنے کی ہدایت ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ایسے عدیم النظیر انسان کی ملت سے کون ترغب بے رغبتی کرتا ہے۔ملة - اللہ تعالی کوئی شریعت کسی نبی کی معرفت یا نبیوں کی معرفت قوم کو دیتا ہے جس کے ذریعے سے اس قوم کے آگے خدا کے قریب پہنچ سکیں تو اس کا نام ملۃ ہے۔دین و ملت میں یہ فرق ہے کہ دین کی نسبت اللہ اور لوگوں کی نسبت ہو سکتی ہے یعنی دین اللہ مگر ملت اللہ نہیں کہتے۔سفة - جو کپڑا برا بنا ہوا ہوا سے سفیہ کہتے ہیں۔ثوب سَفیة۔ایسے ہی جو مہا ر خراب ہوا سے بھی سفیہ کہتے ہیں۔زمامٌ سَفِیة۔غرض سفیہ کا اطلاق او چھے، کم عقل اور اُس شخص پر ہوتا ہے جو دین ودنیا میں ناعاقبت اندیشی سے کام لے۔لا تُؤْتُوا السُّفَهَاء أَمْوَالَهُمْ قرآن شریف میں آیا۔ابراہیم میں جو خوبی بدرجہ کمال تھی۔وہ یہ ہے کہ جب اللہ نے اُسے فرمایا اسلیم فرماں بردار بن جا تو اس نے پوچھا نہیں کہ کس بات میں۔بلکہ کہہ دیا اسکمْتُ لِرَبِّ الْعَلَمِينَ "میں پہلے فرمانبردار ہو چکا کیونکہ میں یقین رکھتا ہوں کہ میرا رب جو کچھ کہے گا وہ ربوبیت کی شان سے کہے گا اور اس حکم میں میری ہی تربیت منظور ہوگی۔پھر یہ کہ اپنی جان تک ہی اس تعلیم کو محدود نہیں رکھا بلکہ اپنی اولا د کو بھی اسی ملت کی وصیت کی۔( ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۲۱ مؤرخه ۱۸ / مارچ ۱۹۰۹ ء صفحه ۲۱) ل مال ان کے حوالے نہ کرو جو کم عقل ہوں۔۲ میں تو رب العالمین کا فرمانبردار ہو چکا۔(ناشر)