حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 352 of 680

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 352

حقائق الفرقان ۳۵۲ سُورَة البَقَرَة حضرت ابوالملۃ ابوالحنفاء ابراہیم علیہ السلام اپنی دُعا میں کہتے ہیں وَابْعَثْ فِيهِمْ رَسُولًا مِنْهُمْ يَتْلُوا عَلَيْهِمْ أَيْتِكَ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَبَ وَالْحِكْمَةَ وَيُزَكِّيهِمُ (البقرة:۱۳۰) پھر اگر مزگی کی ضرورت نہ تھی تو اس دعا کی کیا ضرورت۔تلاوت کو اس لئے مقدم رکھا ہے کہ علم تزکیہ کے مراتب سکھاتا ہے اور تزکیہ کو بعد میں اس لئے رکھا ہے کہ بدوں تزکیہ علم کام نہیں آتا اس لئے کتاب کے بعد تزکیہ کا ذکر کر دیا۔(الحکم - جلد ۶ نمبر ۳۳ مورخه ۱۷ ستمبر ۱۹۰۲ صفحه ۹) غرض یہ حالت اس وقت اسلام کی ہے اور پھر کہا جاتا ہے کہ مرگی کی ضرورت نہیں۔قرآن موجود ہے میں پوچھتا ہوں اگر قرآن ہی کی ضرورت تھی تو پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ قرآن شریف کے آنے کی کیا حاجت تھی؟ کسی درخت کے ساتھ لڑکا لڑکا یامل جاتا ؟ اور قرآن شریف خود کیوں یہ قید لگاتا ہے۔وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَبَ وَالْحِكْمَةَ وَيُزَكِّيهِمْ (البقرة:١٣٠) وغیرہ میں سچ کہتا ہوں کہ معلم کے اور مزگی کے بدوں قرآن شریف جیسے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت غیر مفید ہوتا آج بھی غیر مفید ہوتا۔خدا تعالیٰ نے ہمیشہ سے یہ طریق پسند فرمایا ہے کہ وہ انبیاء ومرسلین کے ذریعہ ہدایت بھیجتا ہے ی کبھی نہیں ہوا کہ ہدایت تو آ جاوے مگر انبیاء ومرسلین نہ آئے ہوں۔(الحکم۔جلد ۶ نمبر ۴۶ مورخه ۲۴ / دسمبر ۱۹۰۲ ء صفحه ۳) ۱۳۱ ۱۳۲ - وَمَنْ يَرْغَبُ عَنْ مِلَّةِ إِبْراهِمَ إِلَّا مَنْ سَفِهَ نَفْسَهُ ۖ وَلَقَدِ اصْطَفَيْنَهُ في الدُّنْيَا وَ إِنَّهُ فِي الْآخِرَةِ لَمِنَ الصَّلِحِينَ إِذْ قَالَ لَهُ رَبُّة اسلم قَالَ أَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعَلَمِينَ - ترجمہ۔اور ابراہیم کے دین سے کون منہ پھیرتا ہے مگر وہی جس نے اپنے آپ کو بے وقوف ثابت کیا اور بے شک ہم نے اس کو دنیا میں چن لیا اور آخرت میں بھی وہ صالحین میں ہے۔جب ہی کہ ابراہیم کو اس کے رب نے کہا کہ تو فرمانبردار بن جا تب ہی اس نے عرض کی میں تو رب العالمین کا فرمانبردار ہو چکا۔