حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 351
حقائق الفرقان ۳۵۱ سُوْرَةُ الْبَقَرَة لئے اللہ تعالیٰ کے فضل نے حضرت ابراہیمؑ کے ذریعہ ایک دعا کی تقریب پیدا کر دی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ تو ہمارا رب اور مربی اور محسن ہے۔تیری عالمگیر ربوبیت سے جیسے جسم کے قوالی کی پرورش ہوتی ہے۔عمدہ اور اعلیٰ اخلاق سے انسان مزین ہوتا ہے ویسی ہی ہماری روح کی بھی پرورش فرما اور اعتقادات کے اعلیٰ مدارج پر پہنچا۔اے اللہ ! اپنی ربوبیت کے شان سے ایک رسول ان میں بھیجیو جو کہ منهم یعنی انہی میں کا ہو اور اس کا کام یہ ہو کہ وہ صرف تیری ( اپنی نہیں) باتیں پڑھے اور پڑھائے اور صرف یہی نہیں بلکہ ان کو سمجھا اور سکھلا بھی دے۔پھر اس پر بس نہ کیجیوبلکہ ایسی طاقت ، جذب اور کشش بھی اسے دیجیو جس سے لوگ اس تعلیم پر کار بند ہو کر مزگی اور مطہر بن جاویں۔تیرے نام کی اس سے عزت ہوتی ہے کیونکہ تو عزیز ہے اور تیری باتیں حق اور حکمت سے بھری ہوئی ہوتی ہیں۔اس دعا کی قبولیت کس طرح ہوئی وہ تم لوگ جانتے ہو اور یہ صرف اس دعا ہی کے ثمرات ہیں جس سے ہم فائدے اٹھاتے ہیں۔(احکم جلد 9 نمبر ۱ مؤرخہ ۱۰ جنوری ۱۹۰۵ صفحه ۱۱) حضرت ابراہیم نے سات دعائیں کی ہیں:۔ا - رَبَّنَا وَاجْعَلْنَا مُسْلِمَيْنِ لَكَ ٢- وَمِنْ ذُرِّيَّتِنَا أُمَّةً مُّسْلِمَةً لَّكَ ٣- وَآرِنَا مَنَاسِكَنَا - وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ ۵ - رَبَّنَا وَابْعَثْ فِيهِمْ رَسُولًا مِّنْهُمْ يَتْلُوا عَلَيْهِمْ آيَاتِكَ ٦ - وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَب وَالْحِكْمَةَ - - وَيُزَلِيْهِمْ إِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ (البقرة: ١٣٠١٢٩) الْحَكِيمُ ا۔اے ہمارے رب ہم کو اپنا فرمانبردار بنا لے۔۲۔ہماری اولاد میں سے ایک فرمانبردار جماعت جو دوسرے کے لئے امام ہو، بنا۔۳۔ہمیں اپنی عبادت کے طریقے سکھا۔اس میں تنبیہہ ہے اس بات کی طرف کہ کوئی من گھڑت طریق مقبول نہیں ہے۔۴۔اور ہماری فرمانبرداری میں جو غلطیاں یا کمزوریاں ظاہر ہوں ان سے در گزر فرما۔۵۔۶۔۷۔اور پھر ان میں ایک رسول مبعوث کر جوان کو کتاب اور پختہ باتیں سکھائے اور ان کا تزکیہ کرے۔تشخیذ الا ذبان جلد ۶ نمبر ۹ ستمبر ۱۹۱۱ء صفحه ۳۵۶)