حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 350 of 680

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 350

حقائق الفرقان ۳۵۰ سُورَةُ الْبَقَرَة پیدائش ۱۷ باب ۱۵۔آپ کے فرزند کے باعث آپ سرے سے سرد ہو ئیں۔پیدائش ۷ ا باب ۵۔آپ کے فرزند کے باعث آپ کے شوہر کا نام ابرام سے ابرہام ہوا۔فصل الخطاب المقد مہ اہل الکتاب۔دوم حصہ صفحہ ۱۹۲ تا ۱۹۵) دعاؤں سے کبھی گھبرانا نہیں چاہیے۔ان کے نتائج عرصہ دراز کے بعد بھی ظہور پذیر ہوتے ہیں لیکن مومن کبھی تھکتا نہیں۔قرآن شریف میں دعاؤں کے نمونے موجود ہیں ان میں سے ایک ابراہیم علیہ السلام کی دعا ہے وہ اپنی اولاد کے لئے کیا خواہش کرتے ہیں۔رَبَّنَا وَابْعَثُ فِيهِمْ رَسُولًا مِّنْهُمْ اس دعا پر غور کرو حضرت ابراہیم کی دعا روحانی خواہشوں اور خدا تعالیٰ کے ساتھ آپ کے تعلقات بنی نوع کی بھلائی کے جذبات کا اندازہ اس سے ہو سکتا ہے۔وہ دعا مانگ سکتے تھے کہ میری اولا دکو بادشاہ بنادے مگر وہ کیا کہتے ہیں۔اے ہمارے رب میری اولاد میں انہیں میں کا ایک رسول مبعوث فرما۔اس کا کام کیا ہو؟ وہ ان پر تیری آیات تلاوت کرے اور اس قدر قوت قدسی رکھتا ہو کہ وہ ان کو پاک و مطہر کرے اور ان کو کتاب اللہ کے حقائق و حکم سے آگاہ کرے۔اسرار شریعت ان پر کھولے۔یہ ایسی عظیم الشان دعا ہے کہ کوئی دعا اس کا مقابلہ نہیں کر سکتی اور ابتدائے آفرینش سے جن لوگوں کے حالات زندگی ہمیں مل سکتے ہیں۔کسی کی زندگی میں یہ دعا پائی نہیں جاتی۔حضرت ابراہیم کی عالی ہمتی کا اس سے خوب پتہ ملتا ہے۔پھر اس دعا کا نتیجہ کیا ہو ااور کب ہو !؟ عرصہ دراز کے بعد اس دعا کے نتیجہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جیسا انسان پیدا ہوا اور وہ دنیا کے لئے بادی اور مصلح ٹھہرا۔قیامت تک رسول ہوا اور پھر وہ کتاب لایا جس کا نام قرآن ہے اور جس سے بڑھ کر کوئی رشد، نور اور شفا نہیں ہے۔الحکم جلد ۸ نمبر ۸ مؤرخه ۱۰ / مارچ ۱۹۰۴ صفحه ۴) ایک دعا ہے جو کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جناب رب العزت اور رب العالمین اللہ جل شانہ کے حضور مانگی ہے۔اس سے ظاہر ہے کہ اس دنیا میں اسلام کے آنے اور اس کے ثمرات کے ظہور کے