حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 339 of 680

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 339

حقائق الفرقان ۳۳۹ سُوْرَةُ الْبَقَرَة تفسیر۔وَإِذِ ابْتَلَى إِبْراهِمَ رَبُّه - اب بنی اسرائیل کے بعد ایک اور سلسلہ کی طرف متوجہ ہؤا ہے۔وہ بھی انْعَمْتَ عَلَم تھے۔منظم ہونے کے بعد ان میں سے بھی مغضوب وضال ہو گئے۔(ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۱۹ ۲۰ مؤرخه ۴ و ۱۱/ مارچ ۱۹۰۹ء صفحه ۲۰) ابتلى۔امتحان ، آزمائش۔اور امتحان کے معنے ہیں کسی کی محنت لینا اور محنت کے بدلہ میں کچھ دینا۔ایک جگہ اظہار کے معنے بھی آتے ہیں۔تنبلی السراير (الطارق : ١٠) یہاں بھی محنت لینے کے معنے ہو سکتے ہیں۔امام۔اس دھاگے کو کہتے ہیں جو معماروں کے پاس ہوتا ہے جس کو شاقول کہتے ہیں۔دیکھو پھر اس لفظ کو کس قدر وسیع کیا ہے کہ جس کی اتباع سے انسان اپنا سیدھا اور ٹیڑھا پن دیکھ سکے ایسے شخص کو امام کہتے ہیں۔قرآن بھی امام ہے، محمد رسول اللہ بھی امام ہیں، محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سچے متبع بھی ہیں۔ذُرِّيَّةٌ۔پھیلنا نسل ( البدر۔کلام امیر حصہ دوم مورخه ۲۱ / نومبر ۱۹۱۲ صفحه ۷۸) ابتلى۔عربی زبان میں کہتے ہیں کسی چیز کے ظاہر کر دینے کو۔قرآن شریف میں یہ محاورہ ہے يَوْمَ تُبلَى السَّرَايِرُ - فَمَا لَهُ مِنْ قُوَةٍ وَلَا نَاصِير ( الطارق: ۱۱۰) أَبْلَاهُ: أَظْهَرَ رَ دُأْتَهُ وَ جَوْدَته فلاں چیز کے رڈی یا جید ہونے کو ظاہر کیا۔پس اللہ نے ابراہیم کو کچھ احکام دیئے گلیمت کے یہی معنے ہیں ) جو انہوں نے پورے کئے۔تو ان کا جید ہونا ظاہر ہو گیا۔ایک دوسرے مقام پر فرمایا ہے۔جَعَلْنَا مِنْهُم اَبِيَّةً يَهُدُونَ بِأَمْرِنَا لَمَّا صَبَرُوا وَكَانُوا بِأَيْتِنَا يُوقِنُونَ (السجدة: ۲۵) یعنی ہم امام اس وقت بناتے ہیں جب انسان احکام الہی پر ثابت قدم ہو جاوے اور ہماری آیات پر پورا یقین رکھے۔خیر جب ابراہیم کے جید ہونے کو ظاہر کر دیا تو ارشاد ہوا۔إِنِّي جَاعِلُكَ لِلنَّاسِ اِمَامًا۔میں تمہیں نمونہ اور مقتدا بنانے والا ہوں۔آپ نے اپنی لے تمام بھید جانچے جائیں گے۔(ناشر) سے ایک دن تمام بھید جانچے جائیں گے۔پھر اس کے واسطے نہ کوئی طاقت ہوگی نہ مددگار۔( ناشر )