حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 338
حقائق الفرقان ۳۳۸ سُوْرَةُ الْبَقَرَة قوتِلْتُمْ لَنَنْصُرَنَّكُم (الحشر:۱۲) مگر موقعہ پر نہ کوئی سفارش کر سکا اور نہ ہی نصرت دے سکا۔وَلَا هُمْ يُنْصَرُونَ کیسی عظیم الشان پیشگوئی ہے۔تیرہ سو برس گزر چکے مگر لا يُنصَرُونَ کا فتوی ایسا اہل فتوی ہے کہ اب تک کوئی قوم بنی اسرائیل کی ناصر دُنیا میں نہیں۔چپہ بھر کہیں ان کی سلطنت نہیں ہے۔جس ملک میں جاتے ہیں ایسے اسباب مہیا ہو جاتے ہیں کہ ذلیل ہو کر نکلنا پڑتا ہے اس کی جڑ یہ ہے کہ یہ شود خوار قوم ہے۔جب لوگ سمجھتے ہیں کہ ان کے پنجے سے چھٹکارا نہیں ہوسکتا تو اپنے بادشاہوں کے پاس چغلیاں کھاتے ہیں اور پھر انہیں حکم ہوتا ہے نکل جاؤ۔میں اکثر مخالفانِ اسلام کو چیلنج دیا کرتا ہوں کہ ایسی پیشگوئی کسی قوم کی نسبت کر دکھاؤ۔راست بازوں سے مقابلہ کرنا بڑا خطرناک ہے۔(ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۱۹ ۲۰ مؤرخه ۴ ۱۱ار مارچ ۱۹۰۹ صفحه ۲۰) اذْكُرُوا نِعْمَتِيَ الَّتِي أَنْعَمْتُ عَلَيْكُمْ۔یہ اس پہلی بات کو دہرایا ہے۔لیکچرار کو بھی ایسا ہی چاہیے کہ بات کی تشریح کر کے پھر خلاصہ دہرا دے۔لا يُقْبَلُ مِنْهَا عَدْلُ اور رکوع ۶ لا يُقْبَلُ مِنْهَا شَفَاعَةُ یعنی شفاعت پہلے ہے اس کی وجہ یہ ہے دنیا میں دو قسم کے آدمی ہیں۔پہلے وہ شفاعت کی طرف جھکتے ہیں۔جب اس نے کام نہ دیا تو جرمانہ بھرنے پر بھی حاضر۔دوسرے اس کے خلاف ہیں۔اس کے بعد اور سلسلہ انعمت کا لیا تشخیذ الاذہان جلد ۸ نمبر ۹ ستمبر ۱۹۱۳ء صفحه ۴۳۹) ہے۔۱۲۵ - وَإِذِ ابْتَلَى إِبْرهِمَ رَبُّهُ بِكَلِمَتِ فَاَتَتَهُنَّ قَالَ إِنِّي جَاعِلُكَ لِلنَّاسِ اِمَامًا قَالَ وَمِنْ ذُرِّيَّتِي قَالَ لَا يَنَالُ عَهْدِى الظَّلِمِينَ - ترجمہ۔اور جب کہ ابراہیم کو چند باتوں کے بدلہ میں اس کے رب نے کچھ انعام دینا چاہا اور ابراہیم نے اچھی طرح ان باتوں کو پورا کیا تو ہم نے کہا کہ ہم ضرور تجھ کو ہمیشہ کے لئے لوگوں کا پیشوا بنا ئیں گے۔ابراہیم نے عرض کی اور میری اولاد میں سے۔اللہ نے فرما یا نہیں ظالموں کو ہمارا اقرار نہیں پہنچتا۔لے اور اگر تم سے لڑائی ہونے لگے گی تو ہم ضرور تمہاری مددکریں گے۔(ناشر)