حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 24 of 680

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 24

حقائق الفرقان ۲۴ سُوْرَةُ الْفَاتِحَة عبادت کے معنے ہیں عاجزی، انکساری سے فرمانبرداری کرنا۔عبادت کے مفہوم میں اس نکتہ کو ضرور یادرکھنا چاہیے کہ نماز اور روزہ اور دیگر معروفہ عبادات جس ہیئت اور طرز سے ادا کی جاتی ہیں اس کے خلاف ہیئت اختیار کرنے سے ممکن نہیں کہ ان پر ثواب ملے یا رضائے الہی کا موجب ہوں اور در حقیقت ثواب کا حق دار حکم بناتا ہے۔مثلاً یہ روزہ جو کہ ہم رکھتے ہیں اگر ایک خاص وقت تک کھانے پینے سے باز رہنے کا نام ہے تو ضرور ہے کہ ہم جمعہ کو یا عید کے دن بھی روزہ رکھ لیا کریں تو ثواب ملے لیکن ان ایام میں روزہ رکھنے سے تو ثواب کے بجائے عذاب ہوتا ہے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مطلق روز ہ اپنی ذات سے عبادت نہیں ہے۔اسی طرح اگر نماز بہ ایں ہیئت کہ ہم ادا کرتے ہیں اگر عبادت ہے تو فجر کی دو رکعت کے بجائے اگر تین یا چار پڑھ لیں تو بھی ثواب ہونا چاہیے بلکہ زیادہ ہونا چاہیے کیونکہ محنت زیادہ ہوئی۔وہی کلمات ہیں جن کی تکرار کثرت سے کی گئی ہے مگر ظاہر ہے کہ دو کے بجائے ۴ تو در کنار صرف ایک رکن نماز ہی بڑھا دینے سے ساری نماز باطل ہو کر موجب عذاب ہو جاتی ہے تو معلوم ہوا کہ نماز مطلق اپنی ذات سے عبادت نہیں ہے۔پھر ہم معاشرت کو دیکھتے ہیں کہ وہی چہل پہل اور محبت اور پیار اور راز و نیاز کی باتیں اور معاشرت کے حرکات ہیں کہ جب انسان اپنی منکوحہ بیوی سے معاشرت کرتا ہے تو ثواب پاتا ہے لیکن جب ایک نامحرم عورت سے کرتا ہے تو عذاب کا مستحق ہے حالانکہ عورت ہونے میں تو بیوی اور نامحرم ایک ہی ہیں اور وہی حرکات ہیں۔تو ان نظائر سے معلوم ہوتا ہے کہ نماز روزہ معاشرت اور دیگر عبادات شرعیہ مطلق اپنی ذات اور ہیئت کے لحاظ سے ہرگز نہیں ہیں بلکہ اس لئے عبادت کا لفظ ان پر آتا ہے کہ یہ خدا تعالیٰ کے حکم سے کی جاتی ہیں اور جب ان میں ایک ذراسی بات بھی اپنی طرف سے ملا دی جاوے تو پھر یہ عبادت نہیں رہتیں اور اسی سے یہ بات خوب ظاہر ہو گئی کہ عبادت کے معنے اصل میں اطاعت کے ہی ہیں اور ہر قابلِ اطاعت چونکہ تعظیم اور تعزیز کا مستحق ہوتا ہے اس لئے اس کے معنے عظمت اور عزت کے بھی ہیں۔إيَّاكَ نَسْتَعِین کا کلمہ خالص توحید کی طرف راہنمائی کرتا ہے کہ خدا تک پہنچنے کے واسطے صرف خدا کو ہی ذریعہ بنا یا جاوے اور اس کلمہ کا قائل یہ اقرار کرتا ہے کہ وہ خدا شناسی کا مرحلہ طے کرنے