حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 325
حقائق الفرقان ۳۲۵ سُورَةُ الْبَقَرَة گیا کہ جب تک اس کا قلب مطمئن نہیں ہوتا یہ بات کرتا ہی نہیں اور مجھے بزور کہا کہ یہ بے انصافی ہے کہ جس بات کو خود نہ سمجھو دوسروں کو منواؤ ۔ میں نے سمجھا کہ اس کا ایمان بڑا عجیب ہے اور یہی وجہ ہے و ۔ کا جو ایک بات کو بیسیوں مرتبہ بیان کرتا ہے۔ میں یہ سن کر خاموش ہو گیا اور دل میں آیا کہ پھر کیا کریں۔ جب اٹھنے کے قریب ہوئے تو فرمایا کہ جو مقامات حل نہیں ہوتے ان کو خوشخط لکھ کر سامنے لگا لو۔ جب آمد رفت کے وقت ان پر نظر پڑے تو دعا کرو چند روز کے بعد وہ انشاء اللہ حل ہو جائیں گے۔ میں ان ایام میں صوفیت سیکھتا تھا۔ میں نے سوچا کہ خوشخط لکھنا اور پھر سامنے لڑکا نا تو مشکل کام ہے اس لئے دل ہی میں لڑکا دو یہ میرا اپنا ذوق تھا۔ اب بھی یہ گر یا د رکھنے کے قابل ہے جو آیت سمجھ میں نہ آوے اس کو خوشخط لکھ کر سامنے لڑکا دو اور دعا کرتے رہو اللہ تعالیٰ کے فضل سے حل ہو جائے گی۔ غرض میں نے ان سوالات میں سے بعض کو اپنے دل پر لٹکادیا اور خدا تعالیٰ نے اپنے فضل سے انہیں حل کر دیا۔ انہیں سوالوں میں سے والفجر اور والنجم کی تفسیر ہے جو میں نے لکھی ہے ۔ اگر کوئی چاہے تو وہ سوال موجود ہیں ۔ میں اس کے حوالہ کر سکتا ہوں غرض تم کو کوئی آیت سمجھ میں نہ آوے تو اس طریق سے کام لو اور جناب الہی میں گر پڑو کہ تیری کتاب ہے میری سمجھ میں یہ آیت نہیں آتی ۔ دعاؤں میں لگے رہو اور منتظر رہو کہ کب انکشاف ہو جاتا ہے۔ کیا میں نے اس موقع پر اپنے خیال کو ترجیح دی ہے یا کسی تفسیر کی سپارش کی ہے بلکہ یہ چوتھا مرتبہ بتایا ہے کہ قلب مطہر لے کر جناب النبی میں گر جائے یہ اصول ہیں فہم قرآن کریم کے لئے ۔ دول الحکم جلد ۱۶ نمبر ۲ مورخه ۱۴ جنوری ۱۹۱۲ء صفحه ۶،۵ ) مَا نَنْسَحُ مِنْ آيَةٍ أَوْ تُنْسِهَا نَأْتِ بِخَيْرٍ مِنْهَا أَوْ مِثْلِهَا أَلَمْ تَعْلَمُ أَنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قدير (البقرۃ: ۱۰۷) یہاں آیت کا لفظ ایک وسیع لفظ ہے انسانوں پر بھی بولا جاتا ہے۔ دیکھو اللہ تعالیٰ ایک ویران بستی پرگزرنے والے کو مخاطب کر کے فرماتا ہے وَ لِنَجْعَلَكَ آيَةً لِلنَّاسِ ۔ (البقرة : ٢٦٠) وَ یہاں اس گزرنے والے کو آیت فرمایا ہے جو لوگ دنیا میں مامور ہو کر آتے ہیں وہ بھی آیت اللہ اے ہم جو کسی نشان کو مٹاتے یا اس کو بھلا دیتے ہیں تو اُس سے بہتر یا اُس کے مانند لاتے ہیں کیا تو نہیں جانتا کہ اللہ تعالیٰ ہر ایک شے کا اندازہ کرنے والا ہے۔ ۲ تا کہ ہم بنائیں تجھ کو نشان و نمونہ لوگوں کے لئے ۔ (ناشر)