حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 321
حقائق الفرقان ۳۲۱ سُوْرَةُ الْبَقَرَة ناسخ منسوخ کا مسئلہ کیسے حل ہوا میں نے کہا کہ مسئلہ ناسخ و منسوخ کے متعلق کوئی کتاب دو۔انہوں نے مجھے ایک کتاب دی جس میں ۶۰۰ آیت منسوخ لکھی تھی مجھے یہ بات پسند نہ آئی۔ساری کتاب کو پڑھا اور مزہ نہ آیا۔میں اس کتاب کو واپس لے گیا اور کہا کہ میں جوان آدمی ہوں اور خدا کے فضل سے یہ ۶۰۰ آیت یاد کر سکتا ہوں۔مگر مجھے یہ کتاب پسند نہیں۔وہ بڑا بڑھا اور ماہر تھا اس نے ایک اور کتاب دی۔اس کا نام انقان ہے اور ایک مقام اس میں بتا دیا جہاں ناسخ و منسوخ کی بحث ہے۔خوشی ایسی چیز ہے کہ میں نے ابھی پچاس والی کو پڑھا بھی نہیں۔مگر اسے لا یا اور اس کو پڑھنا شروع کیا۔اس میں لکھا تھا کہ ۱۹ آیتیں منسوخ ہیں۔میں اس کو دیکھ کر بہت خوش ہوا کہ گویا بادشاہ ہو گیا۔میں نے کہا کہ ۱۹ یا ۲۱ آیتیں تو فوراً یاد کرلوں گا۔مجھے بڑی خوشی ہوئی مگر مجھے ایسا قلب اور علم دیا گیا تھا کہ اس پر بھی وہ کتاب مجھے پسند نہ آوے۔آخر میں نے کہا کہ یہ بھی پوری خوشی کا موجب نہیں پھر مجھے خیال آیا کہ پچاس روپے والی کتاب بھی تو پڑھ دیکھیں۔اس کو پڑھا تو انہوں نے لکھا کہ خدا تعالیٰ نے جو علم مجھے دیا ہے اس میں ۵ آیتیں منسوخ ہیں۔یہ پڑھ کر مجھے بہت خوشی ہوئی کہ اب کیا مشکل ہے۔میں نے جب ان پانچ پر غور کی تو خدا تعالیٰ نے مجھے سمجھ دی کہ ناسخ و منسوخ کا جھگڑا ہی غلط ہے کوئی پانچ سو چھ سو بتا تا تھا کوئی انیس ، اکیس، کوئی پانچ اس سے معلوم ہوا کہ یہ تو صرف فہم کی بات ہے۔اور میں نے یہ قطعی فیصلہ خدا کے فضل سے کر لیا کہ ناسخ ومنسوخ کا علم صرف بندوں کے فہم پر ہے۔ان پانچ نے سب پر پانی پھیر دیا۔یہ فہم جب مجھے دیا گیا تو اس کے بعد ایک زمانہ میں لاہور کے اسٹیشن پر شام کو اترا۔بعض اسباب ایسے تھے کہ چینیاں والی مسجد میں گیا۔شام کی نماز کے لئے وضو کر رہا تھا کہ مولوی محمد حسین بٹالوی کے بھائی میاں علی محمد نے مجھ سے کہا کہ جب عمل قرآن مجید و حدیث پر ہوتا ہے تو ناسخ و منسوخ کیا بات ہے۔میں نے کہا کچھ نہیں۔اگر چہ وہ پڑھے ہوئے نہیں تھے (عالم مراد ہے۔ایڈیٹر ) گومیر ناصر کے استاد تھے۔انہوں نے اپنے بھائی سے ذکر کیا ہوگا۔یہ ان دنوں جوان تھے اور بڑا جوش تھا۔میں نماز میں تھا اور وہ جوش سے ادھر ادھر ٹہلتا رہا۔جب میں نماز سے فارغ ہوا تو کہا ادھر آؤ۔تم نے میرے بھائی کو کہ دیا کہ قرآن میں ناسخ منسوخ نہیں۔میں نے کہا ہاں نہیں ہے۔