حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 320
حقائق الفرقان ۳۲۰ سُوْرَةُ الْبَقَرَة اس کے متعلق پوچھا اس نے کہا ہاں مل سکتی ہے۔دوسرے دن جب میں اس دوست کے پاس گیا تو گو میں طالب علم تھا تا ہم اللہ تعالیٰ نے مجھے طالب علمی کے زمانہ میں بھی مالدار رکھا ہے میں جیب میں کچھ روپیہ ڈال کر لے گیا میں نے اس دوست سے کہا کہ وہ کتاب آئی ہے تو عطا کرو۔انہوں نے کہا کہ ہاں کتاب تو آگئی ہے مگر اس کی قیمت پچاس روپیہ ہے۔اس کتاب کے ساٹھ صفحہ ہیں اور ایک اس کا ضمیمہ ہے۔اس کے ۵۸ صفحہ ہیں۔میں نے کہا بہت اچھا لائیے۔اور میں نے پچاس روپیہ کا نوٹ اس کے ہاتھ میں دے دیا وہ بولے کہ وہ کتاب طبع شدہ ہے اور اسی شہر بمبئی میں چھپی ہے۔میں نے کہا اچھا ہے اس پر انہوں نے وہ کتاب مجھے دی اور میں اس کو لے کر فوراً اٹھ کھڑا ہوا اور تھوڑی دیر کے لئے باہر چلا گیا۔وہاں تیلی کی گلی مشہور ہے اس کا یہ واقعہ ہے۔پھر میں اندر گیا تو وہ حیران ہوا اور پوچھا کہ آپ باہر کیوں چلے گئے تھے میں نے کہا فقہی بحث ہے کہ تکمیل بیع کے لئے تفارق جسمی بھی قول کے ساتھ ضروری ہے یا نہیں۔محدثین اور شوافع کا قول ہے کہ تفارق جسمی بھی چاہئے میں نے اس پر عمل کر لیا۔اس لئے باہر گیا تھا تا کہ بالا تفاق کتاب میری ہو جاوے۔میری ۳۵ ویں پشت میں میرے ایک دادا نے اس مسئلہ پر عمل کیا تھا میں نے اس کی سنت ادا کر لی۔پھر اس نے پوچھا کتاب کو بھی دیکھا میں نے کہا ” جمادے چند دادم جاں خریدم سلماس کتاب کا نام مجھے قدرت ہی نے سکھا دیا تھا میں جب اس دوست کے پاس اٹھنے لگا تو اس نے کہا میں آپ سے محبت کرتا ہوں۔میں نے جواب دیا کہ آپ کی مہربانی ہے۔تب اس نے کہا کہ اظہار محبت میں یہ پچاس روپیہ نذرکرتا ہوں۔میں نے کہا کہ میں ہوں تو طالب علم مگر میری جیب میں اب بھی روپیہ موجود ہے۔اس نے بہر حال وہ پچاس روپیہ واپس کر دیا۔اسی طرح پر جب میں مدینہ طیبہ میں گیا تو ایک ترک کو مجھ سے بہت محبت تھی اس نے کہا کہ اگر کوئی کتاب آپ کو پسند ہو تو ہمارے کتب خانہ سے لے جایا کریں گو ہمارا قانون نہیں ہے مگر آپ کے اس عشق و محبت کی وجہ جو آپ کو قرآن کریم سے ہے آپ کو اجازت ہے۔ا میں نے اتنی زیادہ بے جان چیزوں کے عوض اپنی جان خرید لی۔(ناشر)