حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 23
حقائق الفرقان ۲۳ سُوْرَةُ الْفَاتِحَة عالم کے ایک ایک ذرہ پر تیری ربوبیت کام کر رہی ہے اور تو ہی مرتبہ کمال تک پہنچانے والا ہے اس لئے ايَّاكَ نَسْتَعِينُ ہم صرف تجھ ہی سے استعانت یعنی مدد اور دستگیری طلب کرتے ہیں۔بعض لوگ اس مقام پر یہ اعتراض کرتے ہیں کہ اِيَّاكَ نَسْتَعِينُ اوّل مقدم ہونا چاہیے تھا اور اِيَّاكَ نَعْبُدُ اس کے بعد کیونکہ عبادت کے لئے استعانت اللہ تعالیٰ سے اول طلب کرنی چاہیے۔اس کا جواب یہ ہے کہ شرعی امور میں خدا تعالیٰ کا یہ قانون ہے کہ انسان اول خدا تعالیٰ کے عطا کردہ انعامات سے کام لے کر اس کا شکریہ ادا کرے تو پھر اللہ تعالیٰ اور انعامات عطا کرتا ہے چنانچہ یہ امر نبی کریم صلعم کی اس حدیث سے بھی ثابت ہوتا ہے جس میں یہ بیان ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر میرا بندہ میری طرف ایک بالشت بھر آوے تو میں ایک ہاتھ اس کی طرف آتا ہوں اور اگر وہ ہاتھ بھر چل کر آوے تو باع بھر چل کر آتا ہوں اور اگر چل کر آوے تو میں دوڑ کر آتا ہوں۔اس کے علاوہ خود قرآن شریف نے اس مضمون کو لیا جہاں فرماتا ہے اِن شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ (ابراهیم:۸)۔پھر ایک اور جگہ ہے وَالَّذِيْنَ اهْتَدَوا زَادَهُمْ هُدًى محمـ (محمد : ۱۸) خدا تعالیٰ نے جو قو تیں انسان کو دی ہیں ان سے تو اس نے ابھی کام لیا ہی نہیں تو اس کو اور زیادہ مانگنے کی کیا ضرورت پڑ گئی؟ اور ایسی حالت میں کیوں خدا تعالیٰ اسے اور دیوے؟ ایسی صورت میں تو اگلا دیا ہو ابھی واپس لے لینا چاہیے کیونکہ اس سے کام نہیں لیا گیا اور خداداد نعمت کی قدر نہ کی گئی۔تو ايَّاكَ نَعْبُدُ کے یہ معنے ہیں کہ انسان اعتراف کرتا ہے اور عمل کر کے دکھلاتا ہے کہ اے مولیٰ ! جس قدر تو نے اپنے فضل سے عطا کیا ہے اس سے تو کام لے رہا ہوں اور موجودہ نعمت کو زوال سے محفوظ رکھنے اور اس میں بڑھتی چاہنے کے لئے تیری ذات پاک سے استعانت طلب کرتا ہوں۔گویا ان آیات کی ترتیب ایک طبعی ترتیب ہے جس کے بدلنے سے لازم آتا ہے کہ خدا تعالیٰ کا موجودہ قانونِ قدرت ایک احسن اور ابلغ نظام پر نہیں ہے۔لے اگر تم شکر کرو گے تو میں (خود) تم کو اور زیادہ کردوں گا۔( ناشر ) ے اور جولوگ ہدایت پر ہیں ان کو اللہ نے اور بھی ہدایت دی ہے۔(ناشر)