حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 311 of 680

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 311

حقائق الفرقان ۳۱۱ سُورَةُ الْبَقَرَة فانکحوا الا یامی عام ہے اور عام کا ناسخ خاص کو کہنا اجماعی نہیں۔ستارہویں آیت : لِيَسْتَأْذِنُكُمُ الَّذِينَ مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ “ ( النور : ۵۹) بعض اسے منسوخ کہتے ہیں اور بعض منسوخ نہیں کہتے مگر لوگوں نے اس پر عمل کرنے میں سستی کی ہے۔فوز الکبیر میں ہے ابن عباس کہتے تھے منسوخ نہیں اور یہی وجہ اعتماد کے لائق ہے۔اٹھارویں آیت : - "لا يَحِلُّ لَكَ النِّسَاء مِنْ بَعْدُ (الاحزاب:۵۳) الآية منسوخة بقوله تَعَالَى إِنَّا أَحْلَلْنَا لَكَ قُلْتُ تَحْمِلُ أنْ يَكُونَ النَّاسُ مُقَدَّمًا فِي التَّلَاوَةِ وَهُوَ الْاَظْهَرُے میں کہتا ہوں بعد کا مضاف اليه الجناس الَّتِي مَرَّذِكَرُهَا فِي قَوْلِهِ إِنَّا احللنا۔الآیة۔سپس معنے آیت کے یہ ہوں گے کہ اے نبی تجھے حلال نہیں عورتیں ان چار قسم کے سوا ( تری بیبیاں اور مملوکہ اور بنات عم، بنات عمات، بنات خال ، بنات خالات جنہوں نے ہجرت کی اور وہ مومنہ جس نے اپنا آپ تجھے بخش دیا) اور ولا ان تبدل اس کی تاکید ہے۔" انیسویں آیت : - " إِذَا نَاجِيتُمُ الرَّسُولَ فَقَدِمُوا الآية (المجادلة: ١٣) منسوخة بالآیۃ بعدھا۔میں کہتا ہوں اوّل تو یہ استحبابی حکم ہے اور اس استحباب کو مٹانے والی قرآن میں کوئی آیت نہیں بلکہ شیخ ابن عربی نے فتوحات میں لکھا ہے کہ میں تو اگر حدیث سے مشورہ لیتا ہوں تو بھی چونکہ وہ کلمات نبویہ سے مشورہ صدقہ دے لیتا ہوں۔جزاہ اللہ بیسویں آیت: - " فَأْتُوا الَّذِيْنَ ذَهَبَتْ اَزْوَاجُهُمْ مِثْلَ مَا أَنْفَقُوا (الممتحنة: ١٢) قِيْلَ مَنْسُوخَةٌ بِآيَةِ الصَّيْفِ وَقِيْلَ بِآيَةٍ أُخْرَى وَقِيلَ مُحَكَم - فوز الکبیر والے فرماتے ہیں ظاہر یہی ہے کہ آیت منسوخ نہیں۔یہ حکم الزمان ہے۔ل آيت لا يَحِلُّ لَكَ النِّسَاء مِنْ بَعْدُ منسوخ ہے آیت إِنَّا أخللنالك سے۔میں کہتا ہوں کہ احتمال ہے۔آیت میں بعد کا مضاف الیہ وہ اجناس ہیں جن کا ذکر آیت انا اخللنالك میں گزرا ہے۔جب تم پیغمبر سے کان میں کچھ بات کرنا چاہو تو کان میں بات کرنے سے پہلے کچھ خیرات کر دیا کرو۔(ناشر) کے ان لوگوں کو دے دو جن کی عورتیں جاتی رہیں ( یعنی تمہارے قبضہ میں آ گئیں ) جتنا انہوں نے خرچ کیا تھا۔