حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 22 of 680

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 22

حقائق الفرقان ۲۲ سُوْرَةُ الْفَاتِحَة رکھا ہے کہ جزا وسزا پر ایمان لاؤ۔اللہ ملِكِ يَوْمِ الدِّینِ ہے۔روزِ روشن کی طرح اس کی جزا ئیں سزائیں ہیں اور وہ مخفی نہ ہوں گی اور مالکانہ رنگ میں آئیں گی جیسے مالک اچھے کام پر انعام اور بُرے کام پر سزا دیتا ہے۔اس حصہ پر ایمان لا کر انسان کامیاب ہو جاتا ہے مگر اس میں شستی اور غفلت کرنے سے ناکام رہتا ہے اور قرب الہی کی راہوں سے دور چلا جاتا ہے۔۵- ايَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ - الحکم جلدے نمبر ۳ مورخه ۲۴/جنوری ۱۹۰۳ء صفحه ۱۴) ترجمہ۔(اے سب خوبیوں والے صاحب!) ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں حالانکہ ہم تجھی سے مدد بھی چاہتے ہیں۔کلام تین قسم کا ہوتا ہے (۱) عرضی نویس کسی قانون کے ناواقف کی طرف سے عرضی لکھ دیتا ہے (۲) منتظم اپنے رنگ میں ادا کرتا ہے (۳) کبھی حاکم سمجھا دیتا ہے کہ اس قسم کی عرضی لکھ دو۔قرآن میں تینوں قسم کے کلام موجود ہیں۔پس ايَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ ایک ایسی عرضی ہے جسے حق سبحانہ نے خود سمجھا یا ہے کہ ہمارے حضور یوں عرضی دو۔تفخیذ الا ذبان جلد ۸ نمبر ۹ ستمبر ۱۹۱۳ء صفحه ۴۳۴) ایا ضمیر ہے۔واحد، تثنیہ، جمع مذکر اور مؤنث غائب ، مخاطب متکلم ،سب کے لئے آتی ، ہے۔فرق کے لئے اس کے ساتھ ه ها، هما، هم، هن ، گ، ک، گما، کم، کن، ی، نا لگایا جاتا ہے۔یہاں پر یہ ضمیر خطاب ہے اور مخاطب اللہ ہے۔عبادت کہتے ہیں اعلیٰ درجہ کی تعظیم کے ساتھ لوازم عبودیت بجالانے کو۔عبادت کے لئے چار چیزوں کی ضرورت ہے محبت ، خضوع ، کمال علم اور کمال تصرف کا یقین۔یا بالفاظ دیگر یوں کہنا چاہیے کہ امید وبیم کے یقین اور جوشِ محبت کے ساتھ خضوع کرنے کو عبادت کہتے ہیں۔(رسالہ تعلیم الاسلام قادیان جلد نمبر ا۔جولائی ۱۹۰۶ء صفحہ ۲۲) جب ایسے کاملہ صفات سے متصف معبود کی ہستی پر آگاہی ہوتی ہے تو ایک سلیم القلب انسان بے اختیار بول اُٹھتا ہے اِيَّاكَ نَعْبُدُ۔خصوصیت کے ساتھ ایسی ہی ذات پاک ہر ایک قسم کی عظمت اور پرستش کے قابل ہے۔اے مولیٰ ! ہم صرف تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور چونکہ اس