حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 300 of 680

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 300

حقائق الفرقان ۳۰۰ سُورَةُ الْبَقَرَة جاتے ہیں پھر ان جیسے یا ان سے بہتر پیدا کرتے ہیں۔ نفس نسخ کے متعلق بحث فضول ہے کیونکہ یہ ممکن ہے اور ہم دیکھتے ہیں کہ کارخانہ ہستی میں ایسا ہوتا رہتا ہے۔ ہاں یہ بات کہ قرآن مجید میں نسخ ہے یا نہیں؟ اس کے متعلق جہاں تک میرا فہم ہے۔ میں یہی کہوں گا کہ آج تک کوئی ایسی آیت نظر نہیں آئی جو منسوخ اور موجود فی القرآن ہو۔ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یا ابوبکر و عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی زبان سے بھی کوئی ایسا لفظ مروی نہیں جس سے ایسی آیات کا موجود فی القرآن ہونا پایا جاتا ہو۔ أَلَمْ تَعْلَمُ أَنَّ اللهَ لَهُ مُلْكُ السَّبُوتِ وَالْأَرْضِ - فرمایا کہ اس نسخ ( تغییر ) کا سبب ہم نہیں بلکہ تمہارے حالات میں تبدیلی ہوتی رہتی ہے اس لئے ہمیں احکام میں تغییر کرنا پڑتا ہے۔ كَمَا سُبِلَ مُوسَى مِنْ قَبل ۔ موسیٰ علیہ السّلام سے کیا سوالات ہوئے۔ ایک کا ذکر سورہ نساء پارہ ۶ کے پہلے رکوع میں ہے جہاں فرماتا ہے فَقَالُوا أَرِنَا اللَّهَ جَهْرَةً (النساء: ۱۵۴) حَتَّى يَأْتِيَ اللهُ بِامرہ ۔ اس وقت تک کہ اللہ حکومت تمہیں دے تمہیں چاہیے کہ در گزر سے کام لو اور نماز سنوار کر پڑھتے رہو اور زکوۃ دیتے رہو۔ زکوۃ ہر ایک دے سکتا ہے۔ یہ بھی زکوۃ ہے کہ کوئی اپنے نفس کا تزکیہ کرے ۔ پھر کسی کو نیک بات بتانا یہ بھی زکوۃ ہے۔ نیا لباس ملے تو پرانا کسی کرے۔ پھر کس کو بات بتاتا بھی ہے۔ نیا لے تو پرانا غریب کو دینا یہ بھی زکوۃ ہے۔ اور ایک وہ زکوۃ ہے جو مشہور ہے ۔ ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۱۹ ، ۲۰ مورخه ۴ واار مارچ ۱۹۰۹ ء صفحه ۱۹) ننس ۔ بھلا دیتے ہیں۔ چھوڑ دیتے ہیں۔ ما ننسخ ۔ جو کچھ ہم کھو دیں یا بھول جائیں مٹا دیں ۔ خدا ہم کو اُس سے بہتر دے سکتا اور سکھلا سکتا ہے۔ قرآن شریف میں کوئی ایسا حکم نہیں جو منسوخ ہو چکا ہے اور اس پر عمل کرنا اس وقت ممنوع ہو۔ تنسخ ۔ ہم دنیا کے کچھ مذاہب کو مٹا دیں گے۔ وَاللهُ يَخْتَصُّ - اللہ تعالیٰ اس وقت ایک شخص کو خصوصیت و کو خصوصیت دے رہا ہے۔ لے انہوں نے کہا تھا کہ ہم کو دکھا دے اللہ کو کھلم کھلا ۔ ( ناشر )