حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 21 of 680

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 21

حقائق الفرقان ۲۱ سُوْرَةُ الْفَاتِحَة انْزَلْنَهُ فِي لَيْلَةٍ مُبرَكَةٍ (الدخان: ٢) إِنَّا اَنْزَلْنَهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ (القدر : ٢) وَ مِنَ الَّيْلِ فَتَهَجَّدُ بِهِ نَافِلَةٌ لكَ " (بنی اسراءیل :۸۰)۔اسی واسطے باری تعالیٰ فرماتا ہے ہم جو انصاف کرتے ہیں وہ بے نقص ہوتا ہے اس میں حرف گیری کا موقع نہیں ہوتا۔ہمارا انصاف اور ہماری سزا روزِ روشن کا معاملہ ہوتا ہے۔تصدیق براہین احمدیہ کمپیوٹرائز ڈایڈ یشن صفحہ ۱۵۷) یوم بمعنے وقت، دین، جزا و سزا اہل عرب بُرے کاموں کو اور جن کاموں کے نتائج بد ہوں ان کو رات سے منسوب کیا کرتے ہیں اور اچھے کاموں پر یوم کا لفظ استعمال کرتے ہیں چونکہ اللہ تعالیٰ کی جزا سزا میں نتائج بد نہیں ہیں لہذا یوم کا لفظ یہاں استعمال کیا۔(البدر جلد نمبر ۱۱ مورخه ۹/جنوری ۱۹۰۳ء صفحه ۸۷) ملِكِ يَوْمِ الدين -۔۔۔۔مسئلہ جزا و سزا۔رحم پر مبنی ہے۔اور اس سے تکمیل نفس مقصود ہے۔تشخیذ الا ذبان جلد ۸ نمبر ۹ - ستمبر ۱۹۱۳ء صفحه ۴۳۵) اللہ تعالیٰ محامد کا ملہ سے موصوف ہے اور صفات کا ملہ کا مقتضا ہے کہ وہ مؤثر ہوں۔مثلاً فرمایا۔الحمدُ للهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مُلِكِ يَوْمِ الدِّينِ۔کیا معنی؟ اللہ تعالیٰ میں یہ صفات ہیں۔پس جب اس میں یہ صفات ہیں اور اللہ تعالیٰ سوتا یا اُونگھتا نہیں تو اگر خلق پیدا نہ کرے تو اس کے لئے حمد۔ربوبیت۔رحمانیت۔رحیمیت۔مالکیت کیونکر ثابت ہو؟ کیا آنکھ ہو اور دیکھے نہیں اور کان ہوں اور سنے نہیں؟ (نورالدین بجواب ترک اسلام کمپیوٹرائز ڈایڈیشن صفحہ ۳۳) پانچواں رکن ایمان کا جزاوسزا پر ایمان ہے۔یہ ایک فطرتی اصل ہے اور انسان کی بناوٹ میں داخل ہے کہ جزا اور بدلے کے لئے ہوشیار اور سزا سے مضائقہ کرتا ہے۔۔۔کوئی نہیں چاہتا کہ محنت کا بدلہ نہ ملے اور بچاؤ کا سامان نہ ہو۔پس جب یہ فطرتی امر ہے تو اس کو بھی اللہ تعالیٰ نے ایمان کا جزو لے ہم نے اس کو نازل فرما یا ایک مبارک رات میں۔سے بے شک ہم نے اس کو شب قدر میں اتارا ہے۔اور رات کے کچھ حصہ میں بیدار رہ کر قرآن نماز تہجد میں پڑھو۔یہ تمہارے لئے زیادتی ہے۔( ناشر )